گوادر بندرگاہ ابھرتا ہوا اکنامک زون ہے، عالمی سرمایہ کار اور کمپنیاں محفوظ سرمایہ کاری کرسکتی ہیں، چیمبر آف کامرس
گوادر (بیورو رپورٹ) گوادر بندرگاہ پر تجارتی سرگرمیوں کے آغاز اور جدید سہولیات کی دستیابی کے اعلان کے بعد کاروباری حلقوں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر جیئند ہوت اور جنرل سیکرٹری خالد سیف نے گوادر بندرگاہ کی مکمل فعالیت کو خطے کی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین گوادر بندرگاہ نورالحق بلوچ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ گوادر پورٹ اب بین الاقوامی تجارت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ جدید کرینز، تیز رفتار آپریشنز، RO-RO سروس، آن لائن کلیئرنس سسٹم (WEBOC) اور سیکورٹی کے مو¿ثر انتظامات سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اسے خطے کا ایک اسٹریٹیجک تجارتی مرکز بناتی ہے۔ خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور عالمی منڈیوں تک براہ راست رسائی گوادر کو ایک قدرتی گیٹ وے کی حیثیت دیتی ہے، جہاں کم لاگت اور تیز تر ترسیل کی سہولت دستیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوادر مستقبل میں پاکستان کی معیشت کا مرکزی حب بن سکتا ہے۔ صدر جیئند ہوت اور جنرل سیکرٹری خالد سیف نے مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں، شپنگ کمپنیوں اور صنعتکاروں کو دعوت دی کہ وہ گوادر کا رخ کریں اور یہاں موجود مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہ پر مفت اسٹوریج، جدید انفراسٹرکچر اور تیز ٹرن اراﺅنڈ جیسے عوامل کاروبار کے لیے انتہائی سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوادر نہ صرف ایک بندرگاہ بلکہ ایک ابھرتا ہوا اکنامک زون ہے، جہاں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ وقت آ چکا ہے کہ کاروباری برادری اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائے اور گوادر کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے، تاکہ یہ شہر عالمی تجارت کا ایک نمایاں مرکز بن سکے۔


