پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ عوام دشمن اور معاشی دہشت گردی ہے، کوئٹہ تفتان بس یونین
نوشکی (نامہ نگار) آل کوئٹہ تفتان رخشان ڈویژن بس یونین کے مرکزی صدر حاجی ملک شاہ جمالدینی نے وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے کے حالیہ اضافے کو عوام دشمن، ظالمانہ اور معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا میں اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگی حالات جاری ہیں، مگر بدقسمتی سے پاکستان کی نااہل حکومت نے اس عالمی صورتحال کو بھی عوام اور ٹرانسپورٹرز کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا سنہری موقع سمجھ لیا ہے۔ حکومت اپنی ناکام معاشی پالیسیوں، شاہ خرچیوں اور حکمرانوں کی عیاشیوں کا بوجھ براہِ راست غریب عوام کے کندھوں پر ڈال رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں پہلے سے ایک ماہ کا ڈیزل اور پٹرول کا وافر اسٹاک موجود ہونے کے باوجود فی لیٹر بیک وقت 55 روپے اضافہ کرنا کھلی لوٹ مار اور بدترین معاشی ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے موجودہ حکمرانوں نے قومی خزانے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ لیا ہے اور جب بھی خزانہ خالی ہو جاتا ہے تو پٹرولیم مصنوعات مہنگی کر کے عوام کی جیبیں کاٹ لی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ہر روز مہنگائی کا نیا بم گرا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ پہلے ہی ڈیزل اور پٹرول کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کے باعث شدید خسارے اور بحران کا شکار ہے، جبکہ حالیہ اضافہ ٹرانسپورٹرز کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی سازش کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی ظالمانہ پالیسیاں جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب ٹرانسپورٹرز کو اپنی گاڑیاں کھڑی کر کے سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑے گا اور ملک کا پہیہ جام ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو عوام کے مسائل کا احساس نہیں تو کم از کم یہ اعلان ہی کر دے کہ اب پاکستان میں جدید ٹرانسپورٹ کے بجائے اونٹ گاڑیوں اور بیل گاڑیوں کا دور واپس لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا گیا یہ ظالمانہ اضافہ واپس نہ لیا گیا اور پرانے نرخ بحال نہ کیے گئے تو ٹرانسپورٹرز ملک بھر میں بھرپور احتجاج، پہیہ جام ہڑتال اور سخت عوامی ردعمل دینے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔


