گوادر کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کے دوران ایندھن کے ڈپوز تباہ، مقامی آبادی کو لاکھوں روپے کا نقصان
گوادر (این این آئی)گوادر کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کے دوران ایندھن کے ڈپوز تباہ، مقامی افراد کا معاشی بحران کا خدشہ،سرحدی تیل تجارت متاثر، کنٹانی میں ڈپوز جلنے سے درجنوں خاندانوں کا روزگار خطرے میں،لاکھوں روپے کا نقصان، گوادر کے سرحدی علاقے مچین کاپر، کنٹانی میں تیل ڈپوز نذرِ آتش، مقامی ڈیلرز کا سیکیورٹی فورسز پر کارروائی کا الزام ،تفصیلات کے مطابق ضلع گوادر کے دور دراز سرحدی علاقے مچین کاپر، کنٹانی میں ایندھن اور تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد کے ڈپوز اور ٹھکانے نذرِ آتش ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ مقامی تیل ڈیلرز نے الزام عائد کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ان کے ایندھن کے ذخائر اور کاروباری ڈھانچے کو آگ لگا دی گئی جس کے نتیجے میں انہیں لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔متاثرہ افراد کے مطابق کنٹانی اور مچین کاپر کے علاقے میں ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد طویل عرصے سے محدود پیمانے پر سرحدی تیل تجارت سے وابستہ ہیں اور یہی ان کے خاندانوں کے لیے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے۔ مقامی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اس دور دراز علاقے میں روزگار کے دیگر مواقع نہ ہونے کے باعث وہ سخت حالات میں یہ کاروبار کرتے ہیں۔ایک مقامی تیل ڈیلر نے بتایا کہ گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی کے دوران وہاں موجود ڈپوز، ذخیرہ شدہ ایندھن اور عارضی ٹھکانوں کو نذرِ آتش کر دیا گیا جس سے انہیں بھاری مالی نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ علاقے کے لوگوں کو بنیادی سہولیات اور متبادل روزگار فراہم کریں، مگر اس کے برعکس ان کے محدود کاروبار کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔متاثرہ افراد نے اس کارروائی کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار کے مناسب مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کا باعزت طریقے سے گزارہ کر سکیں۔دوسری جانب اس واقعے کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مو¿قف سامنے نہیں آیا۔ مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد کے مسائل پر توجہ دیں اور انہیں متبادل معاشی مواقع فراہم کریں تو اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکتا ہے


