بلوچستان میں صحت کا شعبہ اور جدید ٹیلی ہیلتھ نظام

تحریر:۔ عنایت الرحمن
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں آبادی بڑی حد تک دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں آباد ہے۔ جغرافیائی پھیلاو¿ اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے یہاں طویل عرصے تک صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ تاہم موجودہ صوبائی حکومت نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کیا ہے تاکہ صوبے کے ہر شہری کو معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صحت کے شعبے کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے واضح کر چکے ہیں کہ معیاری طبی سہولیات ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ سہولتیں شہری مراکز کے ساتھ ساتھ دور افتادہ علاقوں تک بھی پہنچائے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق حکومت کا وژن ایک ایسا بلوچستان ہے جو مضبوط، محفوظ، منصفانہ اور صحت مند ہو۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے پسماندہ اور محروم علاقوں میں پہلی بار بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ صوبے بھر میں 164 بنیادی صحت کے مراکز کو بحال کیا گیا ہے اور تین ہزار ڈاکٹروں کو کنٹریکٹ کی پر بھرتی کیا گیا ہے تاکہ وہ ان بی ایچ یوز میں خدمات سرانجام دیں۔
صوبائی حکومت صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے سرکاری اقدامات کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ اسی سلسلے میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور سیکرٹری صحت مجیب الرحمن پانیزئی نے بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے وائس چیئرمین سے ملاقات میں صحت کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ہسپتالوں کی تعمیر، تشخیصی مراکز، جدید طبی آلات، ادویات کی فراہمی، سپلائی چین اور ٹیلی میڈیسن سمیت مختلف شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ٹیلی ہیلتھ پروگرام کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے دور دراز علاقوں میں ٹیلی میڈیسن کے ذریعے عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص کی ہے اور ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کو دیہی علاقوں تک پہنچانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
حکام کے مطابق ٹیلی میڈیسن پروگرام کے ذریعے صوبے بھر میں ہزاروں مریض گھر بیٹھے ماہر ڈاکٹروں سے مشورہ حاصل کر رہے ہیں، جو صحت کے شعبے میں ایک مثبت انقلاب کی علامت ہے۔ اس پروگرام کا آغاز 2020 میں ایک پائلٹ منصوبے کے طور پر کیا گیا تھا جس کے تحت ابتدائی طور پر چند اضلاع میں خدمات فراہم کی گئیں۔ بعد ازاں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹو (PPHI) نے COMSATS کے تعاون سے گوادر، کوئٹہ، واشک، مستونگ، جعفرآباد اور دکی سمیت مختلف علاقوں میں ٹیلی ہیلتھ کلینکس قائم کیے، جنہیں مرحلہ وار صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے۔
ٹیلی ہیلتھ کلینکس کے ذریعے گائناکالوجی، پیڈیاٹرکس اور ڈرماٹالوجی سمیت مختلف طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے خصوصاً دور دراز علاقوں کی خواتین کو گھر کے قریب طبی مشورہ حاصل کرنے میں آسانی ہوئی ہے۔ اس نظام کے ذریعے خطرناک حمل کی بروقت نشاندہی، بچوں کی صحت سے متعلق مسائل کی تشخیص اور دیگر بیماریوں کے علاج میں بھی مدد مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تربیت، صحت سے متعلق آگاہی مہمات اور غذائیت و صفائی جیسے موضوعات پر تربیتی پروگرام بھی جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹیلی ہیلتھ نظام نہ صرف دور دراز علاقوں میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دے رہا ہے بلکہ ماں اور بچے کی اموات میں کمی، بزرگ اور خصوصی افراد کو طبی سہولیات کی فراہمی اور جعلی معالجین کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
حکومت بلوچستان کے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ صوبے میں صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں بلوچستان کے عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی اور صوبہ صحت کے میدان میں نمایاں ترقی کی جانب گامزن ہو سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں