لسبیلہ یونیورسٹی کے طلبہ کی احتجاجی ریلی، انتظامیہ نے مسائل کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی
اوتھل (انتخاب نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ اوتھل زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بییان میں کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی میں بلوچ طلباءکے جائز حقوق منوانے کیلئے لسبیلہ یونیورسٹی کے اندر ایک کامیاب احتجاجی ریلی نکالی گئی جو سینٹرل لائبریری کے سامنے ایک پرامن ریلی کی صورت میں نکل کر ایڈمن بلاک تک دھرنا دیا گیا، جہاں بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے رہنماﺅں نے احتجاج میں شریک اراکین سے خطاب کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ لسبیلہ یونیورسٹی میں طلباءکو انکے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جنکی وجہ سے وہ شدید مشکلات اور ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں، دور دراز علاقوں سے سفر کرکے یونیورسٹی میں انہیں جدید تقاضوں کے مطابق تعلیمی سہولیات سے محروم رکھنا دراصل اس بات کا غماز ہے کہ بلوچ طلباءکو مختلف مسائل میں الجھا کر انکو شعوری تعلیم سے محروم اور ذمہ داریوں سے بیگانہ کرنے کی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے، ان جیسے مذموم عزائم کو کبھی پایہ تکمیل تک پہنچنے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اراکین نے آج کے اس پرامن احتجاج میں حکمرانوں اور انتظامیہ کو یہ باور کرایا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے ہر صورت میں کھڑا رہنے اور مشکلات کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے جائز حقوق کے خاطر اپنے مو¿قف سے ایک اینچ ہٹنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج طلباءکا جمہوری اور آئینی حق ہے جنکو ہرممکن دبانے کی کوشش کی گئی تاکہ طلباءکو منتشر کرکے انکے احتجاجی ریلی کو سبوتاژ کیا جائے لیکن سیاسی شعور سے آراستہ اراکین نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرکے یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے اپنے مسائل چارٹر آف ڈیمانڈز کی صورت میں پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ دوران احتجاج بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کی جانب سے ایک وفد نے وائس چانسلر دوست محمد بلوچ سے ملاقات کرکے انکے سامنے چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کئے اور ان مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ وائس چانسلر دوست محمد بلوچ نے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا گرلز اور بوائز ہاسٹلز کے مسائل کو حل کرنے کیلئے حسین مگسی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور مسائل کو جلد حل کیا جائے گا جبکہ ایک مہینے کے اندر الحبیب بینک کی اے ٹی ایم مشین نصب کی جائے گی تاکہ طلباءکو پریشانی کا سامنا نہ ہو، گرلز کیلئے ٹرانسپورٹیشن کی فراہمی کو دو دن سے بڑھا کر تین دن کردیا گیا جبکہ بازار میں بس ٹائمنگ کو دو گھنٹے کیلئے بڑھا دیا گیا، گرلز کیلئے ہاسٹل میں لائبریری کا جلد قیام عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ طلباءکے جائز حقوق کیلئے ہماری جدوجہد تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی، ہر مشکل گھڑی میں طلباءکے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ طلباءکے مسائل پر سنجیدگی کا مظاہر کرکے جلد ان مسائل کو حل کریں، بصورت دیگر آئندہ کی حکمت عملی مرتب کرکے طلباءکے حقوق کے حصول کیلئے سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہونگے۔


