خاران میں آبائی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے، حق سے دستبردار نہیں ہوں گے، متاثرین

کوئٹہ (انتخاب نیوز) خاران واشک کے واشک طائفہ جمالزئی کے سردار عبدالحکیم و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جدی پشتی اراضیات پر قبضہ کیا جارہا ہے، ہم نے 2016ءمیں بھی انکے خلاف آواز بلند کی تھی ہم اپنے جدی پشتی اراضیات سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہونگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سردار عبدالحکیم نے مزید کہا کہ واشک مین طائفہ جمالزئی کے جدی پشتی اراضیات پر مبینہ طور پر اُلو ، حمزہ، ہوشاب قبضہ گیر گروپ قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے، جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے، اس سے قبل بھی مذکورہ گروپ نے ہمارے زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی، جس کیخلاف ہم نے 2016ءمیں پریس کانفرنس کی تھی، مذکورہ بالا اراضیات ہم طائفہ جمالزئی کی جدی پشتی ملکیت ہے، با اثر افراد ہماری زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ کہ مذکورہ کیس قاضی عدالت خاران میں زیر سماعت ہے، مگر یہ لوگ شریک کورٹ سے روگردانی کررہے ہیں اور بزور طاقت ہمارے اراضیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جنکی ہم کسی صورت اجازت نہیں دینگے اگر فیصلہ کنندگان سربراہان فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو تمام فریقین جو عدالت میں فریق ہے، مشورہ کرکے کیس عدالت سے نکال کر آپس میں حق حقدار کو دیا جائے اسطرح زبردستی ہم اپنی اراضیات پر قبضہ نہیں ہونے دینگے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ہماری آبائی اراضیات ہیں یہ زمینیں دور حاکمیت خاران نواب حبیب اللہ خان نوشیروانی نے طائفہ جمالزئی مذکورہ اراضیات خون بہا میں دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ علاقہ اور اراضیات پر 1930ءسے لیکر آج تک ہمارے بزگر رہے ہیں، جن میں مختلف افراد اور اقوام کے بزگر رہے ہیں جنید نوتیزئی 1930ءسے لیکر 1940تک صاحب داد بھی ہمارے بزگر رہے ہیں، کینگی ولد جنید 1949ءسے 1957ءتک بطور بزگر رہا ہے رستم ولد عبداللہ 1966کو بطور ارضیات تعینات ہوا تھا جنکی تحریر بزگری موجود ہے گہرام ولد آساں 1984کو بطور بزگر تحریری طور پر تعینات ہوا تھا گہرام کی وفات کے بعد 1996سے تاحال طائفہ جمالزئی خود اپنے اراضیات کی ملکیت کو کاشت کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنی زمینوں پر کسی صورت بھی قبضہ نہیں ہونے دینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں