چند عناصر لواحقین کی بھرتیوں کے میں لوگوں سے پیسے بٹور رہے ہیں، بلوچستان ملازمین اتحاد
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان ملازمین اتحاد کا کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ملازمین کے مسائل کے حل سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے باوجود بلوچستان میں دوران ڈیوٹی فوت ہونیوالے ملازمین کے حقیقی ورثاءکی بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے اپ گریڈیشن پرموشن کے حقوق تسلیم نہ کرنے کیخلاف بلوچستان بھر میں جدوجہد تیز کرنے کا اعلان بلوچستان کی مزدور وں وملازم تنظیمیں اور عوام مہنگائی بیروزگاری کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ پریس کلب کوئٹہ، ریڈ زون ،بلوچستان اسمبلی کے باہر اپنے جائز حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے مسائل کے فوری حل کے متلاشی ہیں مگر بلوچستان کے حکمرانو ں اورحکومت کے سر پرجوں تک نہیں رینگتی بلوچستان حکومت مزدوروں و ملازمین اور غریب کے جائز مطالبات فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کردیا گیا ۔اس حوالے سے بلوچستان ملازمین اتحاد کا اہم اجلاس گزشتہ روز واسا ایمپلائز یونی سی بی اے کے مرکزی دفتر میں زیرصدارت چیئر مین مجیب اللہ غرشین کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس میں بلوچستان کی مزدور و ملازم تنظیموں کے مرکزی قائدین و بی ایم آئی کے عہدیداروں خان زمان قاسم خان عارف خان نچاری محمد عمر جتک عبدالستارخان عابد بٹ سیف اللہ ترین دین محمد محمد حسنی شاہ علی بگٹی ملک وحید کاسی ظفر خان رند حبیب اللہ لانگو اور دیگر مزدور رہنماﺅں نے شرکت کی ۔اجلاس میں اس بات کی مذمت کی گئی کہ چند خودساختہ عناصر بلوچستان میں لواحقین کی بھر تی کے ایشو پر غریب یتیموں اور بیواﺅں سے مختلف حربوں سے پیسے بٹور رہے ہیں اجلاس کے حوالے سے وضاحت کی گئی کہ بلوچستان ملازمین اتحاد کے وائس چیئر مین قاسم خان بطور صدر پی ڈبلیو ڈی ایمپلائز یونین سپریم کورٹ میں لواحقین کی بھرتی کے حوالے سے پٹشنر تھے فیصلہ آنے کے بعد سیکرٹری لا۶ بلوچستان نے قاسم خان ہی سے رابطہ کیا اوربلوچستان لیبر فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے چیف سیکرٹری بلوچستان کو تحریر کردہ لیٹر پر محکمہ ایس اینڈ جے اے ڈی نے سمری جاری کردی ہے ۔وزیر اعلی بلوچستان کی منظوری کے بعد حقیقی ورثاءکی بھرتی کا عمل صوبے بھر کے محکموں میں شروع کرائیں گے ۔اجلاس کے حوالے سے ہدایت کی گئی کہ فوت ہونے والے ملازمین کے بچے اور بیوائیں غیر متعلقہ فورم سے رابطہ نہ کریں۔اور نہ کسی شخص یا گروپ کو کوئی چندہ دیں۔ اجلاس میں بلوچستان ملازمین اتحاد کے جی ٹی اے بی آئینی کے طالبات کی حمایت میں احتجاجی تحریک پر اطمینان کا اظہارکیا گیا اور بلوچستان کی حقیقی تنظیموں بلوچستان لیبر فیڈریشن پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان رجسٹرڈ۔ آل پاکستان کلرک ایسوسی ایشن بلوچستان جی ٹی اے بی آئینی بلوچستان ورکرز فیڈریشن سمیت تمام استذہ و مزدور ملازم تنظیموں کے کاکنوں مزدوروں اور انکے رہنماﺅں کو خراج تحسین پیش کیا گیاجنکی جد جہد کی بدولت جی ٹی اے بی آئینی کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کے 42 ہزار اساتذہ کا دیرینہ مطالبہ حل ہوا اجلاس میں نلازمین کی اپ گریڈیشن کئی دہائیوں سے مختلف کیٹیگریز کی پوسٹوں کی پرموشن نہ ہونے اپ گریڈیشن محکمہ واسا،بی ڈی اے کیو ڈی اے کوئٹہ میٹرووپولیٹن کارپوریشن میں تنخواہوں پنشن کی ادائیگی، بلوچستان کے مختلف اداروں میں فرائض انجام دینے والے ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں میں بڑے فرق کے خاتمے کے حوالے سے بحث مباحثہ ہوا اور فیصلے کئے گئے ۔اجلاس میں کوئٹہ سمیت بلوچستان میں بے لگام مہنگائی سے ملازمین مزدوروں غریب عوام کی بڑھتی مشکلات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس حوالے سے حکومتی اداروں کے چیک اینڈوبیلنس کے ناقص نظام و کاکردگی پر کڑی تشویش کی گئی کہ یوٹلٹی بلز میں اضافے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں آٹے دالوں گھی آئل سبزیو“ کی قیمتیں غریب کی پہنچ سے دور ہوچکیں ہیں غریب ملازمین اور عوام دو وقت کی روٹی کے محتاج ہوگئے ہیں بلوچستان حکومت کے ادارے پرائس کنٹرول کمیٹیاں کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ذخیرہ اندوزوں اپنی مرضی سے خوردنی اشیاءکے ریٹ مقرر کرنے والے عوام دشمن عناصر کےخلاف فوری کارروائی کریں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔اجلاس میں بلوچستان کے ملازمین مزدوروں اور غریب عوام کے مسائل کے پیش نظر اور مندرجہ بالا مطالبات کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ مورخہ 10 نومبر 2022ءبروز جمعرات کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے منعقد کئے جائیں گے۔ اس حوالے سے بلوچستان ملازمین اتحاد کی مرکزی ریلی کوئٹہ میٹروپولیٹن کار پوریشن سے نکالی جائے گی۔ اور تمام اضلاع سے رابطے کرکے اس احتجاج کو وسعت دی جائے گی ۔


