جامعہ بلوچستان کے اساتذہ کا بائیو میٹرک حاضری پرتشویش کا اظہار، فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ
کوئٹہ : جامعہ بلوچستان کے مختلف شعبہ جات (کیمسٹری، فزکس، اسٹیٹسٹکس، میتھ، بوٹنی، زولوجی، جیوگرافی، جیوولوجی، فارمیسی، ڈی پی ٹی، بایو کیمسٹری وغیرہ) کے اساتذہ نے اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے کابینہ ممبران سے ملاقات کی اور بایو میٹرک حاضری کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔اساتذہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر اور ملک کے دیگر صوبوں کی جامعات حتیٰ کہ سرکاری کالجز اور اسکولوں میں بھی اس نوعیت کی دو وقت کی بایو میٹرک حاضری کا نظام رائج نہیں۔ اس کے باوجود یونیورسٹی اساتذہ کو ذہنی دباو¿ کا شکار بنانے کے لیے دن میں دو مرتبہ بایو میٹرک حاضری پر مجبور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی تدریسی اور تحقیقی ذمہ داریاں باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں اور کلاس حاضری کا مکمل کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ چیئرمین، ڈین اور متعلقہ اساتذہ کے پاس موجود ہے۔ لہٰذا وہ اس بایو میٹرک نظام کو تسلیم نہیں کریں گے۔اساتذہ نے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے اور اسے نافذ نہ کیا جائے


