کوئٹہ میں اغوا کی واردات، 60 ہزار امریکی ڈالر تاوان مانگنے والے گروہ کی خاتون کارندہ گرفتار، بچہ بازیاب کرالیا، پولیس

کوئٹہ (یو این اے) اغوا برائے تاوان کی سنگین واردات میں ملوث ملزمان کے خلاف پولیس کی بروقت اور موثر کارروائی کے نتیجے میں مغوی کمسن بچہ بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق مدعی محب اللہ نے 16 اپریل 2026 کو تھانہ خالق شہید میں رپورٹ درج کرائی کہ نامعلوم ملزمان نے اس کے بیٹے مزمل احمد کو اغوا کر لیا ہے اور واٹس ایپ کے ذریعے 60 ہزار امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔ واقعہ کا مقدمہ نمبر 86/26 بجرم 365A ت پ درج کر کے تفتیش سنجیدہ نوعیت کے پیش نظر سریس کرائم انوسٹی گیشن ونگ (SCIW) کے حوالے کی گئی۔ایس ایس پی سریس کرائم انوسٹی گیشن ملک اصغر کی ہدایت پر ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی، جس کی مجموعی نگرانی ایس پی آپریشنز عبدالستار اچکزئی اور ایس پی انویسٹی گیشن علی رضا نے کی، جبکہ ڈی ایس پی ایڈمن افتخار رشید نے سپرویژن انجام دی۔ تفتیشی ٹیم کی سربراہی ایس ایچ او نظام الحق نے کی، جبکہ ٹیم میں انچارج ہومی سائیڈ یونٹ انسپکٹر اسد مندوخیل، انسپکٹر نذیر احمد اور سب انسپکٹر سمیع اللہ بھی شامل تھے۔تفتیشی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی، بشمول کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR)، ڈیٹا اینالسز اور واٹس ایپ لوکیشن ٹریسنگ کا موثر استعمال کرتے ہوئے مختصر وقت میں ملزمان کا سراغ لگایا۔پولیس نے خفیہ اطلاع پر علیزئی ٹان، مشرقی بائی پاس کے علاقے میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک مکان پر چھاپہ مارا، جہاں مغوی بچہ مزمل احمد کو ایک کمرے میں پلنگ کے نیچے چھپا کر رکھا گیا تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔ کارروائی کے دوران اغوا میں ملوث خاتون مسما مظلیفہ کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔کوئٹہ پولیس کے مطابق شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں