محکمہ صحت بلوچستان میں ایڈہاک بنیادوں پر تعیناتی کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے، ینگ ڈاکٹرز

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وائس چیئرمین ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ڈاکٹر بہار شاہ نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے صحت کے سنگین مسائل سے نمٹنے میں حکومتی ناکامی کسی سے پوشیدہ نہیں ڈاکٹروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے حکام بالا کو بار ہا آگاہ کیا مگر حکومتی غیرسنجیدگی کے باعث ڈاکٹروں کے مسائل میں بتدریج اضافہ ہوا ہے، رواں سال کے شروع میں 06 ماہ تک احتجاج پر رہے، اس بیچ متعدد بار ریلیاں نکالی، جیل گئے، ایف آئی آر بگتے اور پولیس گردی کا سامنا کیا، احتجاج کا مقصد ڈاکٹروں اور مریضوں کو درپیش مسائل پر حکومتی ایوانوں میں آواز پہچانا تھا، مزاکرات کامیاب ہوئے مگر معاملات جوں کہ توں ہیں، پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ڈاکٹروں کی مختلف اسامیوں پر تحریری امتحان کی تاریخ دینا اور پھر امتحان کو ملتوی کرنا سیلاب میں ڈوبے بلوچستان کی غریب عوام کے ساتھ دشمنی اور ڈاکٹروں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے جس کی مزمت کرتے ہیں، بلوچستان میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے محکمہ صحت میں ایڈہاک بنیادوں پر تعیناتی کا کیبنٹ سے منظور شدہ اصولی فیصلہ سیکرٹری ایس اینڈ جی ڈی کے مشورے پر چیف سیکرٹری صاحب نے پس پشت رکھتے ہوئے ٹیسٹ اور انٹرویو میں کامیاب ہونے والے 800 سے زائد ڈاکٹروں کی تعیناتی کا عمل یہ لکھ کر روک دیا کہ بلوچستان میں ڈاکٹروں کی کوئی کمی نہیں، بلوچستان کی غریب عوام سے صحت کی سہولیات چھیننے اور ڈاکٹر دشمنی میں ہر حد پار کرنے والے معزز چیف سیکرٹری کے ان اقدامات پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، چیف سیکرٹری جہاں ایک طرف صوبے میں ڈاکٹروں کی کثرت کا بہانہ بنا کر ایڈہاک بنیادوں پر تعیناتی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں وہی دوسری طرف ٹرشری کیئر ہسپتالوں میں کام کرنے والے پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں کو بغیر کسی قانونی جواز کے بلوچستان کے اطراف میں داکٹروں کی کمی دور کرنے کیلئے تبادلہ کررہے ہیں، ان کے اس دوہرے معیار کی حکومتی سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، بلوچستان کے تین میڈیکل کالجز اور ان سے منسلک ہسپتالوں کو فعال بنانے اور پی ایم سی سے توثیق کرانے کے عمل کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے کنسلٹنٹ ڈاکٹروں کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنا سیکرٹری ایس اینڈ جی ڈی اور چیف سیکریٹری کا یہ عمل جہاں نہ صرف ڈاکٹروں سے روزگار چھیننے کی کوشش ہے بلکہ طلبہ کے احتجاج، اساتذہ کی جدوجہد اور پی ایم سی کی مِنت سماجت کے بعد توثیق پانے والے یہ تینوں میڈیکل کالجز اور ان سے منسلک ہسپتالوں کی توثیق ختم ہونے کا سبب بن سکتا ہے، بلوچستان میں صحت کے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا آلہ کار بننا، کیا چیف سیکرٹری کے کردار پر سوالیہ نشان نہیں ہے ؟ صوبے کے ٹرشری کیئر ہسپتالوں میں دن رات کام کرنے والے ہاوس آفیسر اور پی جی ڈاکٹرز کو08 ماہ سے نہ ملنے والا ماہانہ وظیفہ بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود بھی ریلیز نہ کرنا فائنانس ڈیپارٹمنٹ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے،حکومت وقت کو اس امید کے ساتھ ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہیں کہ وہ صوبے بھر میں ڈاکٹروں کی ایڈہاک پر تعیناتی کو ممکن بناتے ہوئے تمام اسامیوں کو کمیشن بھیجنے کے ساتھ ساتھ پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام ہونے والے ڈاکٹروں کی دیگر اسامیوں پر التواکا شکار امتحان کی تاریخ کا فل فور اعلان کرنے سمیت بلوچستان کے تین میڈیکل کالجز میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کے کنٹریکٹ میں توسیع اور ہاوس آفیسر/ ٹرینی ڈاکٹرز کے 08 ماہ سے تعطل کا شکار وظیفے کی رقم ادا کرتے ہوئے حکومت وقت صوبے بھر میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرکے بلوچستان کی غریب عوام کو ریلیف دیں گے، معاملات حل نہ ہوئے تو مجبورا چیف سیکرٹری آفس کے سامنے دھرنا دیں گے، چیف سیکرٹری آفس کے سامنے دھرنا دینے کا آئنی حق چھینا گیا تو مجبورا الیکٹیو سروسز کا بائیکاٹ کرکے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں