گوادر کے سمندر میں ٹرالنگ مافیا کا تعلق پنجاب اور مخصوص طبقے سے ہے، ہدایت الرحمن
گوادر (نمائندہ انتخاب) حق دو تحریک بلوچستان کا دھرنا دوسرے روز میں داخل۔ عوام کی بڑی تعداد کی شرکت۔ مطالبات کی منظوری، لاپتہ افراد کی بازیابی ،ٹرالنگ کے خاتمے ، آزادانہ بارڈر ٹریڈ ،کوسٹ گارڈ کے قبضے میں گاڑیوں اور کشتیوں کی اجراءتک دھرنا جاری رہے گا۔ منشیات نے نسلیں تباہ کی ہیں، منشیات پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔مولانا ہدایت لرحمن بلوچ کا اعلان۔ حق دو تحریک بلوچستان کے زیراہتمام اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا دوسرے روز میں داخل ہوگیا۔ دھرنے میں گوادر سمیت سربندن، پسنی، اورماڑہ، جیونی، دشت، نگور، ضلع کیچ، ضلع پنجگور کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہیں۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے خطاب کرتے کہا کہ 11 ماہ قبل وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے اپنے وزراءکے ساتھ اسی مقام پر ہمارے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرکے مطالبات پر ایک ماہ کے دوران عملدرآمد کرنے کا وعدہ کیا گیا، اس دوران ہم بار بار انہیں اور حکام کو یاد دہانی کراتے رہے 11 ماہ گزر گئے لیکن 11 ماہ گزرنے کے دوران ہمارے وزیراعلیٰ صاحب نیند سے بیدار ہی نہیں ہوتے اور دن بھر سوتے ہی رہتے ہیں، بلوچستان کو چند اوباشوں کے حوالے کرکے یرغمال بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے مطالبات میں لاپتہ افراد کی بازیابی، ساحل بلوچستان سے غیرقانونی ٹرالنگ کا خاتمہ، بارڈر میں آزادانہ تجارت کی اجازت، منشیات فروشی کا خاتمہ، کوسٹ کے قبضے میں گاڑیوں اور کشتیوں سمیت پکڑے گئے اشیاءکی ریلیز سمیت 32 مطالبات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرالرز نے سندھ کے سمندر کو بانجھ بناکر اب ساحل بلوچستان کارخ کرکے سمندری حیات کی نسل کشی کرتے ہوئے ڈاکوﺅں کی طرح ہمارے سمندر کو لوٹ کر ہزاروں ماہیگیروں کو نانِ شبینہ کا محتاج بنا رہے ہیں۔ ان ٹرالرز مافیا کا تعلق پنجاب اور ایک مخصوص طبقے سے ہے جب ہم ان پر بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہی کہ یہ ہم متعصب ہیں لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ہو، جہاں سے بھی تعلق رکھتا ہو اگر وہ ہمارے حقوق غضب کررہے ہوں تو ہم ان کا گریبان پکڑیں گے۔ انہوں نے کہا لاپتہ افراد کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے تڑپتی رہتی ہیں۔ ہم سے وعدہ کیا گیا کہ تین ماہ کے اندر لاپتہ افراد بازیاب کیے جائیں گے، لیکن بازیابی اپنی جگہ ملتان کے نشتر ہسپتال میں سینکڑوں لاشیں برآمد ہوئیں جو خدشہ ہی کہ لاپتہ افراد کی ہیں، کئی نوجوانوں کو ماورائے عدالت و قانون قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا بارڈر ٹریڈ کو ٹوکن مافیا کے حوالے کیا گیا ہے، ویری فکیشن کے نام پر ایک کاروبار شروع کیا گیا ہے، کوسٹ گارڈ کے قبضے میں گاڑیاں اور اسپیڈ بوٹ ہیں، معاہدے کے عدم عملدرآمد پر اب گاڑیاں اور اسپیڈ بوٹ سمیت اشیاءکی ریلیز کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوگا، منشیات فروشی کی باقاعدہ سرپرستی کی جارہی ہے، شہر سمیت دیہات اور گاﺅں گاﺅں منشیات فروشی سے متاثر ہے، ہرگھر متاثر ہے، باقاعدہ حکومتی سرپرستی میں منشیات فروشی کی جارہی ہے تاکہ نوجوان منشیات میں مبتلاءہوکر اپنے حقوق سے بیگانہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا کیخلاف سوشل میڈیا میں پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے، کوئی بتائے کہ ہم کیا غلط کررہے ہیں، کیا ٹرالنگ کیخلاف آواز بلند کرنا غلط عمل ہے، کیا لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ غلط ہے، کیا عوام کے حقوق اور انکے مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کرنا غلط ہے،؟ انہوں نے کہا کہ یہ کہا جارہا ہے کہ ہم یہ سب کچھ ووٹ اور الیکشن کیلئے کررہے ہیں لیکن کوئی بتائے کہ ڈاکٹر مالک اور میر حمل جو کچھ کررہے ہیں وہ کعبتہ اللہ اور جنت میں جانے کیلئے کررہے ہیں۔؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کو ایماندار قیادت فراہم کی ہے، ایماندار قیادت ہی عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے میدان میں ہے عوام نے حق دو تحریک کو سپورٹ کرکے اپنا فرض پورا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بات مطالبات کی منظوری سے آگے بڑھ کر مطالبات پر عملاََ عملدرآمد کی صورت میں مذاکرات ہوں گے۔ عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں دھرنا 90 دن سے بھی آگے بڑھ کر طویل ہوسکتا ہے۔ دھرنا سے نصیب نوشیروانی، اللہ بخش سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شریف میانداد اور شکیل کے ڈی نے ادا کیے۔


