سی پیک منصوبے کو ہرگز نہیں مانتے، گوادر کا فیصلہ کسی سردار یا شہباز شریف کو کرنے نہیں دینگے، حق دو تحریک
گوادر (انتخاب نیوز) حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر سمیت چھاؤنی، ایکسپریس وے اور گوادر پورٹ کے تعمیراتی کام کو بند کردینے کا اعلان کردیا، ہزاروں نوجوان کو کفن پوش ہوکر گوادر پورٹ اور گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ جانے کی ہدایت، 44 مطالبات پیش کردیے، گوادر میں جاری دھرنا تیسرے روز میں داخل ہوگیا۔ دھرنے سے اپنے خطاب کے دوران حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ہمارے دھرنے کو مذاق سمجھا جارہا ہے لیکن ہم پورے نظام کو جام کردینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہے ہیں، حق کی لڑائی میں اگر جان بھی چلی جائے تو کوئی مسئلہ نہیں، ہم اپنی جان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے ڈرنے والے نہیں، سی پیک منصوبے کو ہرگز نہیں مانتے، گوادر کسی کے بھی باپ کی جاگیر نہیں، گوادر کا فیصلہ کسی سردار یا شہباز شریف کو کرنے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ چند دن بعد ہم انتہائی بڑا فیصلہ لینے والے ہیں، ایسا ہرگز قبول نہیں کرینگے کہ گوادر کے عوام احتجاج پر ہوں اور گوادر پورٹ چل رہا ہو، ہم گوادر پورٹ کے کام کو مکمل طور پر بندکرادینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی موت کا حلف اٹھائینگے لیکن کسی جابر کے سامنے اپنے گھٹنے کھبی بھی نہیں ٹیکیں گے۔ مولانا ہدایت الرحمن نے صوبائی حکومت کے سامنے 44 مطالبات پیش کردیے، جس کے مطابق بلوچستان کے تمام لاپتہ افراد کو بازیاب، ٹرالر مافیا سے بلوچستان کے سمندر کو پاک، بارڈر کو شفاف آزادانہ اور شناختی کارڈ پر لوگوں کو کاروبار کرنے کی اجازت، ایف سی، کوسٹ گارڈ کی مداخلت کا مکمل خاتمہ، تمام اشیا ضرورت لانے لیجانے کی مکمل اجازت، ڈرائیوروں کے ساتھ ایک کلینئر کو جانے کی اجازت، تمام کاروباری کمیٹیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مکران بھر میں منشیات کے اڈوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور منشیات کیخلاف تمام ادارے مشترکہ کارروائی کریں، وائن اسٹور کو بند کیا جائے۔ منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لئے مفت سینٹر قائم کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کوسٹ گارڈ سے کسٹم ایکٹ کا اضافی چارج واپس لیا جائے اور غیر ضروری چیک پوسٹس کا فی الفور خاتمہ کیا جائے اور حق دو تحریک کی جانب سے دی گئی فہرست پر عمل کیا جائے۔ اسکولار سپتال میں آبادی کے اندر قائم چیک پوسٹ کا خاتمہ کیا جائے اور کوسٹ گارڈ کی جانب سے پکڑی گئی کشتیاں اور گاڑیاں مالکان کو واپس کی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی اداروں کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور ان کو مالی انتظامی اختیارات دیے جائیں۔


