لک بدوک،کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر 50گھنٹو ں بعد ٹریفک جزوی بحال

حب(نمائندہ انتخاب) کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر لک بدوک 50گھنٹوں کے اعصاب شکن ٹریفک جام کے بعد ہفتہ کی شام کو جزوی طور پر ٹریفک کی روانی بحال ہونا شروع ہو گئی ٹریفک جام میں پھنسنے والے ہزاروں افراد جن میں مرد خواتین بچے ضعیف العمر افراد مریضوں کوشدید مشکلات اور اذیت کا سامنا کرناپڑا جبکہ اس دوران ٹریفک جام سڑک کا حصہ پیدل سفر کرنے اپنی منزل اور قریبی علاقوں تک پہنچنے والوں کو ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیورز نے بھی خوب لوٹا بھوک اور پیاس سے نڈھال مسافروں کو بریانی کی پلیٹ اور منرل واٹر کے نام پر جعلی منرل واٹر فروخت کرنے والوں نے من مانے نرخوں پر خرید نے پر مجبور کیا کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ N25پر گڈانی کراس سے متصل لک بدوک پر ٹریفک جام کا مسئلہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ پچھلی کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے مشرف دور حکومت میں جب لسبیلہ کی حدود میں سڑک کی ازسر نو تعمیر ہونے لگی تو اُسوقت بھی عوامی حلقوں ٹرانسپورٹرز کا مطالبہ تھا کہ لک بدوک کی سڑک کو چوڑ اکیاجائے لیکن این ایچ اے نے اپنی من مانی کی اور لک بدوک کی سڑک کو اُسی خستہ حالی میں چھوڑ دیا گیا جبکہ ایک سال قبل عوام اور ٹرانسپورٹرز کے شدید دباؤ اور منتخب عوامی نمائندوں کے پریشر پر NHAنے لک بدوک سڑک کی چوڑائی بڑھانے اور سڑک کے دونوں اطراف میں تعمیرات کا کام شروع کیا لیکن NHAکی طرف سے سڑک کے توسیع منصوبے کی بہتر انداز میں مکمل کرنے کے بجائے روایتی انداز میں کرڑوں روپے کے کام میں صرف اپنی کمیشن نظر آیا اور کام سست رفتاری کا شکار رہا اور ناقص کام ہونے کی وجہ سے حادثات میں مزید اضافہ ہونے لگا جبکہ جولائی میں شروع ہونے والی بارشوں نے لک بدوک کے توسیع منصوبے پر NHAکی ناقص کارکردگی کی باقی کسر بھی پوری کردی اور جو کنکریٹ ورک کیا گیاتھا اسکا ایک بڑا حصہ بارش میں بہہ گیا اور جو باقی بچا وہ ناکارہ ہو گیا عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ NHAکی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی سزاقومی شاہراہ پر سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو بھگتنا پڑرہی ہے گزشتہ 50گھنٹوں کے بدترین ٹریفک جام کی وجہ سے وہاں پر تار کول سے بھرے ایک ٹینکر کو پیش آنے والا حادثہ تھا جس سے نہ صرف تارکول سڑک پر پھیل جانے کی وجہ سے گاڑیوں کا چلنا مشکل ہو گیا تو دوسری طرف جلدی پہنچے کی جلد بازی کر نے والے ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز نے باقی کسر پوری کردی جسکے نتیجے میں پورے 50گھنٹوں سے بھی زائد لک بدوک پر بدترین ٹریفک جام رہا عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وزرات مواصلات کو چاہئے کہ NHAکے متعلقہ حکام سے اس غفلت پر باز پرس کر کے لوگوں کو جس اذیت اور ذہنی کوفت کا سامنا ہو اہے کا ازالہ کرے بلکہ لک بدوک سڑک کے حصے کی فوری توسیع اور مرمت کے کام کو شروع کیا جائے تاکہ آئے روز کے حادثات اور ٹریفک جام سے قومی شاہراہ پر سفر کرنے والے لوگوں کو نجات مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں