لیویز ایریا کو پولیس کے ما تحت کرنیکا کوئی فیصلہ قبول نہیں ، پشتونخوا میپ
کوئٹہ : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں صوبائی حکومت کی جانب سے مختلف اضلاع جن میں چمن، قلعہ عبداللہ خان، زیارت اورضلع شیرانی کے بی ایریا کو اے ایریا یعنی لیویز ایریا کو پولیس ایریا میں تبدیل کرنے کی تجویز کو کھلی طور پر مسترد کرتے ہوئے بی ایریا میں امن کو برقرار رکھنے اور94 فیصد تک جرائم کے خاتمے پر لیویز فورس کی کارکردگی کو سراہا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ نے پہلے بھی اے ایریا پولیس اور بی ایریا لیویز فورس کا تقابلی جائزہ پیش کیا تھا صوبے کی لیویز فورس کے پاس 94 فیصد ایریا ہے اور جرائم کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے اور اے ایریا پولیس کے پاس صوبے کا 6 فیصد رقبہ ہے جس میں جرائم کی شرح 94 فیصد ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لیویز فورس کی کارکردگی پولیس سے کئی گنا بہتر ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ لیویز فورس کی ٹریننگ اور جدید اسلحہ وسازوسامان سے لیس کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیویز فورس کو وقت اور حالات کے مطابق تربیت اور منظم کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت نئے تجربے کی بجائے کارکردگی کی بنیاد پر لیویز فورس کو منظم کرنے کی ذمہ داری پوری کریں۔گلستان پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع قلعہ عبداللہ خان کا اجلاس پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین عبدالرحیم زیارتوال کے زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں پارٹی کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری حامد خان اچکزئی ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری علاﺅالدین کولکوال نے شرکت کی ۔ اجلاس میں نئے ضلع کی پارٹی تشکیلات پر سیر حاصل بحث ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ 4نومبر 2022کو صبح10بجے ضلعی کمیٹی کا اجلاس گلستان عنایت اللہ کاریز میں محترم مشر محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر ہوگا۔ جس میں پارٹی کے نئے ضلع میں سیاسی تنظیمی ڈھانچہ کی تشکیل ہوگی ۔ اجلاس سے عبدالرحیم زیارتوال ، عبدالقہار خان ودان ، ڈاکٹر حامد خان اچکزئی ، علاﺅالدین کولکوال اور ڈاکٹر حنیف خان نے خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ ہماری سیاسی جدوجہد کا آغاز خان شہید نے فرنگی استعمار کے خلاف عنایت اللہ کاریز گلستان سے کیا تھا اور اس خطے میں دیگر قوموں نے فرنگی سامراج کے خلاف جو کردار ادا کیا تھا اس میں پشتونوں کا رول سب سے اہم تھا ، ملک کی تشکیل کے بعد خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور ان کے رفقہا نے ملک میں ایک ایسے آئین کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا جس کے تحت پشتونوںکی قومی وحدت ، قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن ، ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر خودمختیار پارلیمنٹ ،جمہور کی حکمرانی کی داخلہ پالیسی اپنانا ہوگی ، لیکن جو داخلہ پالیسی اپنائی گئی اس کے نتیجے میں ملک انتشار ، افراتفری سے دوچار ہوتا رہا اور ایوب خان کی آمریت نے رہی سہی کسر پوری کردی اور ملک پر جمہوریت کی بجائے آمریت مسلط ہوگئی ، اور پارٹی نے ملک کی تاریخ میں جمہوریت کیلئے اہم رول ادا کیا ہے پارٹی کے لیڈر شپ کا رول ، کردار اور سیاسی جمہوری بیانیہ تمام ملک کے سیاسی جمہوری قوتوں کا بیانیہ بن چکا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ ملک کی داخلہ وخارجہ غلط اور مسلط پالیسی کے نتیجے میں ملک عالمی طور پر تنہا اور داخلی طور پر بحرانوں میں گرچکا ہے اور نکالنے کا راستہ ملک میں آئین کی بالادستی ، پارلیمنٹ کی خودمختیاری ، جمہورکی حکمرانی اور قومی اکائیوں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن بنانا اور ملک کی آئین کے تحت تشکیل شدہ تمام اداروں کو آئینی حدود کا پابند بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پشتونوںپر روزگار اور کاروبار کے دروازے بند کیئے جارہے ہیں ، ڈیورنڈ لائن داخلی مقامات پر تجارت ختم کردیا گیا ہے ، ہمارے لوگوں کی زمینداری ، مالداری ، کچے مکانات ، زیر کاشت رقبہ اور تیار فصلیں سیلاب سے برباد ہوچکی ہیں اوریہی پانی زرین علاقوں میں پہنچنے پر وہاں کے باسیوں کے سب کچھ ملیا مٹ ہو چکاہے ، لیکن آج ہمارے نقصانات کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ کسمپرسی ،لاچاری اور غربت نے ہمارے لوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنادیا ہے ، وفاقی اور صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بحالی کے مرحلے میں ہمارے نقصانات انفراسٹریکچر (روڈز ، ڈیمز ، سکولز ، ہسپتال وغیرہ کی بحالی کا آغاز کریں اور لوگوں کے فصلات کے نقصانات کی تلافی ہو اور سیلاب سے متاثر ہوجانیوالے رقبے کی بحالی کے اقدامات کیئے جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور خصوصاً پشتونخوا وطن میں جاری بدامنی ، دہشتگردی کا فوری خاتمہ ضروری ہے اور عوام کے سرومال کا تحفظ ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے ، ملک کے سرمایہ دار عدم تحفظ کے شکار ہیں ، زرعی ، صنعتی پیداوار مسلسل گھٹ رہی ہے مہنگائی 68فیصد بڑھ گئی ہے پیداوار کے بڑھنے سے بیروزگاری اورمہنگائی گھٹ سکتی ہے اور عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے ۔


