وندر، ڈام بندر میں سمندری کٹاؤ سے کشتی سمندر برد، ماہی گیروں کو لاکھوں کا نقصان

وندر (انتخاب نیوز) سونمیانی وندر کے ساحلی علاقے ڈام بندر میں سمندری کٹاؤ، ایک کشتی سمندر برد، سمندری کٹاؤ کے باعث ماہی گیروں کو لاکھوں روپے کے نقصانات کا سامنا، حکومتی سطح پر ماہی گیروں کو کسی قسم کا مالی امداد نہیں دیا گیا۔ گزشتہ روز سونمیانی وندر کے ساحلی علاقے ڈام بندر میں وڈیرہ علی خاصخیلی کے بندر گاہ پر سمندری کٹاؤ کے باعث ساحل سمندر پر لنگر انداز مقامی ماہی گیروں کی کشتیاں سمندری کٹاؤ کے زد میں آ گئی موقع پر موجود ماہی گیروں نے ساحل سمندر پر لنگر انداز متعدد کشتیوں کو بروقت اقدام کرتے ہوئے سمندری کٹاؤ سے محفوظ کرلیا جبکہ ایک کشتی جو کہ خشکی پر ہونے کی وجہ سے سمندری کٹاؤ کے زد میں آ کر سمندر میں گر گئی جس کے باعث سمندری پانی اور کٹاؤ کے سبب نکلنے والی مٹی بھر جانے سے ایک سائیڈ سے سمندر میں مٹی کے باعث دھنس گئی ہے مٹی بھر جانے کیسبب کشتی کے ثابت نکالے جانے کے چانس مشکل دکھائی دے رہے ہیں جبکہ کشتی میں رکھا ہوا لاکھوں روپوں کی مالیت کا جال مقامی ماہی گیر نکالنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ کشتی میں انجن سمیت دیگر ضروری سامان نصب ہیں واضح رہے کہ اس سے قبل سینکڑوں مرتبہ سمندری کٹاؤ کے باعث مقامی ماہی گیروں کی کشتیاں جالوں سمیت رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز سمندری کٹاؤ کے باعث سمندر برد ہوچکیں ہیں مگر تاحال حکومت کی جانب سے ماہی گیروں کی بحالی کے لیے ان کو کسی قسم کی مالی امداد فراہم نہیں کی گئی سمندری کٹاؤ کے باعث ساحلی خشکی والی جگہ سالہ سالوں سے سمندر کے نزر ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی کے مکینوں کو دوسرے مقام پر منتقل ہونے اور وہاں پر رہائش پذیر ہونے کے لیے اراضی دستیاب نہیں ہے کیونکہ بیشتر ساحلی اراضی پہلے ہی مختلف صوبائی اور وفاقی اداروں کو الاٹ کردی گئیں ہیں متاثرہ ماہی گیروں نے حکومت بلوچستان سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندری کٹاؤ کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ماہی گیروں کی مالی امداد کے ساتھ ساتھ دوسرے مقام پر منتقلی کے لیے اراضی کی فراہمی کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں سونمیانی وندر کے ساحلی علاقے ڈام بندر میں سمندری کٹاؤ کی نزر ہونے والی کشتی جس کا نصف حصہ سمندری مٹی میں دھنسا ہوا ہے سمندر برد ہونے والی کشتی سیف اللہ نامی ماہی گیر کی بتائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں