خواتین کو حقوق دلوانے کیلئے بغاوت نہیں آگاہی اور راہ راست دکھانے کی ضرورت ہے، سول سوسائٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کی سول سوسائٹی کے اراکین اور حکومتی نمائندوں نے کہا ہے کہ خواتین کو معاشرے میں حقوق دلوانے کے لئے بغاوت نہیں بلکہ آگاہی اور راہ راست دیکھانے کی ضرورت ہے، خواتین کے حقوق مردوں کی مخالفت نہیں بلکہ انہیں برابر کا احترام دیکر حاصل کئے جاسکتے ہیں، بلوچستان میں بچوں کی کم عمری کی شادی، خواتین کے ملازمتوں میں کوٹے، معاشی، سماجی طور پر خواتین کو مستحکم کر کے مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ یہ بات ڈپٹی سیکرٹری وویمن ڈویلپمنٹ جہاں آراء تبسم، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان کی رکن فرخندہ اورنگزیب، چیئر پریسن بی ڈبلیو بی اے ثناء درانی، عبدالحئی ایڈوکیٹ، نمرہ ملک، شازیہ بتول سمیت دیگر نے پیر کو بوائز اسکاؤٹس کوئٹہ میں وویمن لیڈ الائنس کے زیر اہتمام خواتین کی لیڈرشپ وائس کے حوالے سے منعقدہ مشاورتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مقررین نے کہا کہ خواتین کی معاشی، معاشرتی، سیاسی مضبوطی کے بغیر انکی ترقی اور سماجی بہبود میں کردار ادا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے لئے قانون سازی تو کی جاتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ان قوانین پر عملدآمد کی بھی اشد ضرورت ہے خواتین کو ہراسانی کے بچانے، انہیں ووٹ ڈالنے کی آزادی، جائیداد میں حصہ دینے سمیت دیگر اہم نکات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے لئے انٹرن شپ پروگرام، وویمن بازار، وویمن جیل، ڈیجیٹل لائبریری، وویمن ایمپاورمنٹ سینٹر، سمیت 12منصوبے بجٹ میں شامل ہیں جن پر کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کا حصول تصادم نہیں بلکہ آگاہی کے ذریعے ممکن ہے معاشرے میں تبدیلی کے لئے ذہن سازی کی ضرورت ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنی سطح پر کام کرنا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں چائلڈ میرج بل کو منظورکروا کر کم عمر بچیوں کا تحفظ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں