عالمی تنظیموں کی جانب سے ٹرانس جینڈر کے نام پر آنیوالا پیسہ کہاں خرچ ہورہا ہے، جماعت اسلامی
راولپنڈی (انتخاب نیوز) جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے حکومت سے پوچھا ہے کہ اٹھائیس لاکھ ٹرانسجنڈز کی نوکریوں پر بھرتیاں کس بنیاد پر ہو رہی ہیں، مغربی ممالک و یونائیٹڈ اسٹیٹس سمیت دیگر انٹرنیشنل تنظیمات کی جانب سے ٹرانسجنڈز کے لئے پیسہ آتا ہے بتایا جائے وہ پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟۔شعبہ تعلقات عامہ حلقہ خواتین رالپنڈی کے تحت سیمینار میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی۔جس میں ڈائرکٹر تعلقات عامہ، سابق ممبر اسمبلی عائشہ سید، نائب ناظمہ صوبہ شمالی پنجاب رخسانہ غضنفر نے بھی خطاب کیا۔سیمینار سے ”ٹرانسجنڈر اور اس کے ایکٹ کے مضمرات“پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ کہ اٹھائیس لاکھ ٹرانسجنڈز کی تفصیلات اکٹھی کی جائیں ان کی نوکریوں پر بھرتیاں کس بنیاد پر ہو رہی ہیں۔مشتاق احمد نے کہا کہ مغربی ممالک و یونائیٹڈ اسٹیٹس سمیت دیگر انٹرنیشنل تنظیمات کی جانب سے ٹرانسجنڈز کے لئے پیسہ آتا ہے بتایا جائے وہ پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اٹھائیس ہزار سات سو تین لوگوں نے اپنا صنف تبدیل کر لیا ہے ہم ٹرانسجنڈر ایکٹ کی پبلک میں بھی اور سینیٹ کے فلور پر بھی مخالفت کرتے ہیں سینیٹر مشتاق احمد کا منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ ابھی تک ہمارے لٹریچر میں لفظ ٹرانسجنڈر کے معانی ہی نہیں ہیں۔ خواجہ سرا ٹرانسجنڈر نہیں ہیں انگریزی میں خواجہ سرا کو یونا کہا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تین سالوں میں دو ہزار لوگوں نے اپنی جنس کو تبدیل کروا کہ اپنے آپ کو نادرا میں رجسٹر کروایا ایک بندے کی جنس کوئی اور ہو اس کی صنف کوئی اور ہو۔اور وہ اپنے آپ کو ٹرانسجنڈر کہلوائے یہ کیسے ممکن ہے؟۔یہ ہیں دو تصورات ٹرانسجنڈر اصل میں بائیو لوجیکلی مکمل مرد یا مکمل عورت ہیں اور مکمل مرد اور مکمل عورت ہونے کے ساتھ اس کا ذہنی و طبعی مسئلہ ہے اسلام آباد پولیس نے نوکریوں کا اشتہار دیا جس میں بتایا گیا ٹیوٹر و فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے سے کہ 6 ہزار خواتین نے اپلائی کیا اور 28 ہزار ایک سو ٹرانسجنڈز نے اپلائی کیا ہے۔ٹرانس جینڈر قانون ایک شرم ناک قانون ہے، یہ نکاح/ شادی کے ادارے، قرآن کے نظام، مسلمان خاتون/معاشرے کے شرم و حیا پر حملہ ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور تمام مکاتب فکر کے علما اِس ٹرانس جنڈر قانون کو خلاف اسلام قرار دے چکے ہیں۔ لہذا حکومت فی الفور ٹرانسجنڈر ایکٹ پر عمل درآمد کو روکے تا کہ اِس قانون کے مزید معاشرتی نقصانات سے ملک کو بچایا جا سکے۔عائشہ سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو پاکستان میں تحفظ نہیں ملتا خواتین کا قتل و غارت جنسی زیادتیاں ہو جاتی ہیں مگر کوئی انصاف نہیں ملتا۔عائشہ سید نے کہا کہ اگر کوئی سچ و حق کی بات کرے مظلوم کو حق دلوائے یا مظلوم کو حق دلوانے کی کوششیں بھی کرے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ عائشہ سید نے کہا کہ ہمیں اسلامی شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مکمل عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اسلام خواتین بیٹیوں ماں بیویوں بہنوں سب کے حقوق دیتا ہے دین اسلام نے عورت کو کبھی حقوق سے محروم نہیں رکھا۔آخر میں رخسانہ غضنفر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔


