بلوچستان فزیو تھراپسٹ کا 150 دن علامتی کے بعد تادم مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن کا 150 دنوں تک علامتی بھوک ہڑتال بعد تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کا اعلان۔ بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ گزشتہ پانچ مہینوں سے اپنے پانچ جائز اور آئینی مطالبات کے حق میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے بیٹھے تھے۔مگر حکومت بلوچستان اور چیف ایگزیکٹیو بلوچستان کے غیر سنجیدہ اور غیر زمہ دارانہ رویے کو برقرار رکھتے ہوئے ہیں۔ عوامی مسائل کا غلا گھونٹ کر ہمیشہ کی طرح اپنی ذاتی خواہشات اور مفادات کو ترجیح دینا باعث تشویش ہے۔ مزید بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ پانچ مہینوں میں ہم نے اپنے فیلڈ کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کرنے ساتھ ساتھ اپنے مسائل حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں کے سامنے رکھتے آرہے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مذاکرات ہوئے جس میں ہمارے تمام مطالبات جائز قرار دے کر تسلیم کئے گئے اور نوٹیفکیشن جاری کر نے کا وعدہ کیا۔ مگر حکومت بلوچستان کی طرف سے بجائے کہ وہ ہمارے مسائل حل کریں بلکہ اپنی طاقت کے زور پر ہم پر لاٹھی چارج، گالم گلوج اور بے بنیاد دفعات لگا کر دس دن ہمیں جیل میں رکھا گیا۔ چیف ایگزیکٹو بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے مذاکرات کو آج 25 دن گزر گئے مگر ہمارا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تو مجبوراً حکومت کے اس غیر مہذبانہ سلوک کو دیکھ کر ہم نے اپنی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے کا علان کیا مگر انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا کہ ہمارے تین دوست 24 گھنٹوں سے دن رات تیز بارش اور سردی میں بھوکے بیٹھے ہوئے ہیں مگر حکومت کی طرف کوئی سنجیدہ اقدام نظر نہیں آرہا۔ لہٰذا ہم حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد سے جلد ہمارے جائز مطالبات تسلیم کریں۔ اگر خدانہ خواستہ ہمارے دوستوں کچھ ہوا اس کا ذمہ دار حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان ہوں گے۔


