ایران میں مزار پر داعش کے حملے کے ا لزام میں 26 غیر ملکی گرفتار

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی سراغرسانی کی وزارت نے اہلِ تشیع کے ایک مقدس مزار پر داعش گروپ کے مہلک حملے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں 26 غیرملکی شہریوں کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 26 اکتوبر کو شیراز میں واقع شاہ چراغ کے مقبرے پر مسلح حملے میں 13افراد ہلاک ہو گئے تھے۔انٹیلی جنس وزارت کی ویب سائٹ پر شائع شدہ ایک بیان میں کہا گیا کہ وزارت نے شیرازمیں کارروائی میں ملوث تمام ایجنٹوں کی نشان دہی کی ہے اورانھیں گرفتار کرلیا ہے۔بیان کے مطابق 26 تکفیری تخریب کاروں کا تعلق آذربائیجان، تاجکستان اور افغانستان سے ہے۔ واضح رہے کہ ایران میں تکفیری کی اصطلاح سے مراد بنیاد پرست سنی انتہا پسند گروہ ہیں۔ ایرانی حکومت اور میڈیا ان ہی کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرتا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ ان تخریب کاروں کو فارس، تہران، البرز، کرمان، قم اور رضوی خراسان کے صوبوں کے ساتھ ساتھ ایران کی مشرقی سرحد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ایران کے جنوب میں واقع مقدس ترین شیعہ مقام مانے جانے والے مزار پر فائرنگ کا واقعہ اس دن پیش آیا تھا جب ملک بھر میں ہزاروں افراد تہران میں اخلاقی پولیس کے زیر حراست ہلاک ہونے والی خاتون مہسا امینی کو خراج عقیدت پیش کررہے تھے۔ شیراز میں حملے کے مجرم کی شناخت انٹیلی جنس کی وزارت نے سبحان کومورونی کے طور پر کی ہے، جب اسے گرفتار کیا جا رہا تھا تو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا۔ وزارت نے کہا کہ وہتاجک شہریتھا اور ابو عائشہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بیان کے مطابق ایران میں حملوں کے مرکزی رابطہ کار ایک آذری شہری کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو باکو سے تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے ملک میں داخل ہوا تھا۔ وہ تہران پہنچنے کے بعد بیرون ملک داعش کے ایک نیٹ ورک کے ساتھ رابطے میں تھا۔ 31 اکتوبر کو وزارت نے اعلان کیا تھا کہ کئی دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں ایک آپریشنل سپورٹ عنصر بھی شامل ہے جس کی شناخت پیر کے روز ایک افغان شہری محمد رمیز راشدی کے نام سے کی گئی ہے۔ گزشتہ ماہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اپنے بیانات میں شیراز میں مزار پر حملے کو مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہونے والے مظاہروں اور فسادات سے جوڑا تھا۔ انھوں نے اس حملے کا سخت جواب دینے کا عہد کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں