پنجگور میں ٹرانسپورٹروں کے مطالبات منظور کرکے بارڈر کھولا جائے، انجمن تاجران بلوچستان
کوئٹہ (انتخاب نیوز) انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر رحیم آغا، جنرل سیکرٹری عمران ترین، حاجی نصرالدین کاکڑ، میر محمد رحیم بنگلزئی، حاجی یعقوب شاہ کاکڑ، سید حیدر آغا، ولی افغان، طاھر خان جدون، امرالدین آغا، حسن خان، میر زبیر لہڑی و دیگر عہدیداروں نے انجمن تاجران پنجگور کے صدر حاجی خلیل احمد دہانی، ڈرائیور ایسی ایشن کے صدر رضا رئیس، گیراج یونین کے صدر عبدالقدیر بلوچ کی جانب ہڑتال اور تمام مطالبات کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ پنجگور کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوری طور پر انجمن تاجران پنجگور کے تمام مطالبات تسلیم کرتے ہوئے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو احتجاج پر مجبور نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے تاجروں کا دارومدار دو بارڈروں پر مشتمل ہے پورے صوبے میں کوئی فیکٹری ہے نا انڈسٹری جس سے تاجر برادری یا عوام مستفید ہو اور نہ ہی حکومت کی جانب سے تاجروں کو کاروبار کرنے کے لئے کوئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں بلوچستان کی تاجر برادری اپنی مدد آپ کے تحت انہی بارڈروں کے ذریعے اپنا کاروبار کررہے ہیں اور اپنا گزر بسر کررہا ہے اوریہ کاروبار آج سے نہیں بلکہ پاکستان بنے سے پہلے یہی کاروبار کرتے آرہے ہیں اس کے باوجود جب بھی نواز لیگ کی حکومت آئی ہے وہ بلوچستان کے تاجروں پر روزگار کے دروازے بند کرنے پر لگی رہتی ہے تاکہ بلوچستان کی تاجر برادری لاہور کے فیکٹریوں سے سامان لینے پر مجبور ہوجائے اور قصدا بلوچستان بھر کے تاجر برادری کو احتجاج پر مجبور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ وفاقی حکومت کی بلوچستان دشمن روئے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے وزیر اعظم سمیت انکے حواریوں کو بتا دینا چاہتی ہے کہ بارڈروں سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے بارڈروں کو بند کرنا بلوچستان کی تاجروں اور عوام کا معاشی قتل عام ہے جسے کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا ۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعلٰی بلوچستان قدوس بزنجو وفاق کے اس ظالمانہ اقدامات کا فوری نوٹس لیتے ھوئے دونوں بارڈروں کو کاروبار کے لئے فوری کھولنے کے آرڈرز جاری کریں اور ایف سی سمیت دیگر اداروں کو پابند کریں کہ وہ صرف منشیات، اسلحہ اور ایسی اشیاءکی روکتام کریں جس سے ملکی وقار اور سالمیت کے لئے خطرہ ھو اور تاجروں کے کاروبار سے منسلک اشیاءخورونوش تیل وغیرہ لانے پر فوری پابندی ختم کریں۔ انھوں نے کہا کہ اگر انجمن تاجران پنجگور کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ بلوچستان بھر میں سخت احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ھوگی جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور پنجگور انتظامیہ پر عائد ھوگی۔


