جنوبی پنجاب کے مسلح گروہ کالعدم تنظیم کے سائے تلے متحد، پولیس تھانوں پر حملے کی دھمکی

روجھان(انتخاب نیوز)جنوبی پنجاب میں پولیس مقابلے کے دوران ایک انتہائی مطلوب مجرم کی ہلاکت کے بعد خطرناک مجرموں کے کئی گروہوں نے ایک کالعدم عسکریت پسند گروپ (بی ایل اے)کے سائے تلے متحد ہونے کے بعد راجن پور کی تحصیل روجھان میں چھ پولیس تھانوں پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ خطرناک مجرموں کی ایسی دھمکی پر پولیس کے اعلی افسران نے مناسب جوابی کارروائی کےلئے حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے۔خیال رہے کہ 23 نومبر کو رات دیر گئے پولیس کے ساتھ شدید جھڑپوں میں مجرموں نے پانچ گھنٹے سے زائد عرصے تک ناقص ہتھیاروں سے لیس پولیس فورس پر راکٹ لانچر، مارٹر اور دیگر ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او)نے نجی ٹی وی بتایا کہ مجرموں کے ساتھ فائرنگ کا اختتام ایک خطرناک اشتہاری مجرم اور گینگ کے سربراہ خدا بخش کی ہلاکت پر ہوا جس کے سر کی قیمت 18 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 5پولیس اہلکاروں سمیت 12افراد سخت زخمی ہو ئے جہاں بھاری ہتھیاروں سے لیس مجرموں نے کئی بلٹ پروف گاڑیوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا۔پولیس افسر نے کہا کہ 5پولیس اہلکاروں سمیت ایک بندوق بردار دو دہائیوں پرانی پولیس کی بکتر بند گاڑی میں پھنس گئے کیونکہ مجربوں کی فائرنگ سے آپریشن کے دوران گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے اور پھر مجرموں کے ایک گروہ نے بھاری ہتھیاروں سے پولیس وین پر حملہ کردیا۔ایمرجنسی کال کے بعد پولیس کی اضافی نفری وہاں پہنچی جس کے بعد ایک بار پھر مقابلہ ہوا جہاں پولیس نے حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کیا اور اس طرح سخت مزاحمت کے بعد پھنسے ہوئے پولیس اہلکاروں کو ریسکیو کیا گیا۔پولیس حکام نے کہا کہ جھڑپوں کے دوران ایک اور انتہائی مطلوب مجرم گورا عمرانی کو پانچ گولیاں لگیں اور اس کے چھ ساتھی زخمی ہوئے تاہم حملہ آور اپنے زخمی ساتھیوں کو لے کر گھنی جھاڑیوں اور جنگلوں میں غائب ہوگئے۔پولیس افسر نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے راجن پور اور رحیم یار خان اضلاع کے نسبتاً ًناقابل رسائی علاقوں میں شروع کیے گئے بڑے پیمانے پر آپریشن میں ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں اور ان علاقوں کی سرحدیں سندھ اور بلوچستان سے ملتی ہیں۔گزشتہ روز آر پی او نے کہا تھا کہ لونڈ، عمرانی، دلانی، بنو، اندھر اور موسانی گروہوں نے ایک بڑا جرگہ کیا اور بی ایل اے کی چھتری تلے متحد ہو گئے۔دوسری جانب پنجاب پولیس نے بلوچ عکسریت پسند گروہ کی طرف سے دی گئی سنگین دھمکی کے نتیجے میں راجن پور کے 6 پولیس تھانوں سے نفری واپس بلا لی ہے۔پولیس حکام کے مطابق عسکریت پسند گروہ نے راکٹ لانچر اور دیگر بھاری ہتھیاروں کی مدد سے ان پولیس اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں