ایرانی سپریم لیڈر سے عراقی وزیر اعظم کی ملاقات، جلا وطن کردوں کے حملوں سے متعلق تبادلہ خیال
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السودانی نے ملاقات کی ہے۔ تہران میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ سرحدوں کے تحفظ اور دفاع کے امور زیر بحث آئے۔دونوں ملکوں کے درمیان ان دنوں ایران کی طرف سے جلاوطن کردوں پر سرحد پار حملوں کی وجہ سے کشیدہ ہورہے ہیں۔ اس بارے میں بات چیت کے دوران عراقی وزیر اعظم شیاع السوڈانی نے وہ عراقی سرزمین کو ایران کی سلامتی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس پر ایرانی سپریم لیڈر نے کہاکہ مگر یہ عراق کے کچھ حصوں میں ہورہا ہے۔ عراقی وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات سے پہلے ایرانی صدر ابراہیم رئیسانی کے ساتھ بھی ملاقات کی، دونوں رہنماؤں نے قرار دیا کہ تخریب کاری کیخلاف لڑائی دونوں ملکوں کی سلامتی اور اقتصادی تعاون و ترقی کے لیے کلیدی حیثیت کی حامل ہے۔ عراقی وزیراعظم کا یہ ایران کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ وہ پچھلے سال عراق کے وزیراعظم بنے تھے۔ ان کے ملک میں تقریبا ایک سال تک حکومت سازی کا معاملہ سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے کھٹائی میں پڑا رہا تھا۔ وزیراعظم عراق کے ساتھ ملاقات کے بعد صدر رئیسی نے مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے دو طرفہ تبادلہ خال کے دوران سیکورٹی، امن تعاون اور علاقائی استحکام کے موضوعات اہم تھے۔ سودانی نے اس موقع پر کہا کہ ہماری حکومت اس امر کے لیے پر عزم ہے کہ کہ وہ کسی بھی گروپ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی جو ایرانی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکے۔ ایران میں جاری ملک گیر احتجاج کے دوران ایرانی حکام الزام لگاتے ہیں کہ کرد جلا وطن گروپ ایران میں بے امنی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایران نے ان پر کئی بار سرحد پار سے حملے کیے ہیں۔ ایران کے ان حملوں کے حوالے سے عراقی حکومت نے ستمبر میں ایرانی سفیر کو طلب بھی کیا تھا کہ عراقی سرزمین پر ایران کے حملے نہیں ہونے چاہییں۔


