عمران خان کو عالمی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستانی قوم پر مسلط کیا، جنرل فیض نے کہا یہ کسی کام کا آدمی نہیں، غفور حیدری
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ آج ہماری جماعت میں بلوچستان کی موثر ترین شخصیات جن میں چیف آف سراوان سابق وزیراعلیٰ و رکن بلوچستان اسمبلی نواب محمد اسلم رئیسانی سمیت بلوچ پشتون سے تعلق رکھنے والے ممتاز قائدین شامل ہورہے ہیں، عمران خان کو اقتدار میں لانے کیلئے بھارت، اسرائیل اور امریکن ملٹی نیشنل کمپنیوں نے فنڈنگ کی اور عمران خان چار سال تک قوم کے ساتھ جھوٹ بول کر کھلواڑ کرتے رہے، ایک کروڑ نوکریاں،50لاکھ گھر دینے سمیت معیشت کو مستحکم بنانے کی بجائے اس کا خانہ خراب کر دیا اور سی پیک کا بھی بیڑہ غرق کیا ہے،موجودہ اتحادی حکومت ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے اور قوم کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ملکر کام کر رہی ہے، ہمیں امید ہے کہ ہم مسائل کے حل اور مشکلات پر قابو پالیں گے اور موجودہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد ہی الیکشن کرائے جائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو جماعت کے صوبائی سیکرٹریٹ میں صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر صوبائی جنرل سیکرٹری سید آغا محمد شاہ بلوچستان اسمبلی اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، حافظ محمد یوسف،مفتی روزی خان، دلاور خان کاکڑسمیت دیگر بھی موجود تھے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام سب سے بڑی سیاسی اور دینی قوت ہے، جس میں بڑی شخصیات کی شمولیت سے یہ جماعت صوبے میں مزید مضبوط ہوگی، کیونکہ نواب اسلم رئیسانی جیسی شخصیات بھی جماعت میں شامل ہو رہی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ 2018کے انتخابات کو پہلے دن ہی مسترد کیا تھا اور مولانا فضل الرحمن نے جو کچھ کہا وہ سب صحیح ثابت ہوا ہے، ہماری جماعت کے کارکنوں اور ساتھیوں کو مختلف حوالوں سے تنگ کر کے مایوس کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہمارے مخلص علماء کرام اور نوجوان کارکن آگے بڑھتے رہے، کیونکہ 2018کے انتخاب میں عمران خان کو قوم پر مسلط کرنے کیلئے بھارت کا کردار جبکہ اسرائیل اور امریکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فنڈنگ بھی تھی، اور عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل بلند و بانگ دعوے کئے تھے جو ریت کی دیوار ثابت ہوئے، ایک کروڑ گھر 50لاکھ نوکریاں ڈالر کو 60روپے تک لانے،معیشت کو مستحکم بنانے کی بھی باتیں جھوٹ ثابت ہوئیں، جنہوں نے اپنے چار سالہ دور میں ملک کا خانہ خراب کر کے معیشت کو غیر مستحکم بنا کر سی پیک کا بھی بیڑہ غرق کیا ہے، عمران خان کو غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ نے ملکر بڑے طاقتوں کیساتھ اس قوم پر مسلط کیا اور پاکستان کو بحرانوں سے دوچار کیا،ہماری جماعت ایک بڑی قوت بن کر سامنے آرہی ہے اور آنے والے انتخابات میں جمعیت علماء اسلام کا بلوچستان میں ایک اہم کردار ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ ان کیمرہ بریفنگ کے دوران جنرل باجوہ سے کہا تھا کہ ایک ایسے شخص کو ملک پر مسلط کیا جو کسی کام کا نہیں اسی طرح جنرل فیض سے بھی کہا کہ شکر ہے آپ نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور حکومتی شخصیات کے چہرے دیکھنے کو ملے، سابق وزیراعظم نے دوست ممالک کو بھی ناراض کیا،اور اب اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا شوشا چھوڑا ہے، حالانکہ جمہوریت کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے، اب اگر اسمبلیاں تحلیل کی جائیں تو الیکشن کیسے کروائیں گے کیونکہ آگے محرم الحرام اور عیدین بھی آرہی ہیں، اس لئے اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی،اور اس کے بعد ہی الیکشن ہونگے موجود ہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو صحیح سمت پر گامزن کر کے معیشت کو مضبوط بنایا جائے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات کے دھاندلی اور جعلسازی کے ذریعے ہماری قیادت اور پارٹیوں کو پارلیمنٹ سے دور رکھ کر نا اہل کو عوام پر مسلط کیا گیا، ہمارا روز اول سے ہی یہی موقف رہا ہے کہ ہم حلف نہ اٹھائیں لیکن اتحاد میں اپنے ساتھیوں اور دوستوں کی بات ماننی پڑتی ہے، ضمنی انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی کی کامیابی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انتظامی مشینری اور حکومتی وسائل استعمال ہوئے جن سیٹوں پر وہ کامیاب ہوئے وہ انکی تھیں، اور کئی حلقوں میں وہ اپنی سیٹیں کھو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن چار روزہ دورے کے دوران 11دسمبر تک کوئٹہ میں رہیں گے، اور ورکرز کنونشن سمیت دیگر پروگراموں میں شرکت کرینگے۔


