بلوچستان کے طول و عرض میں پشتون و بلوچ جابر نوابوں اور سرداروں کو چیلنج کیا، مولانا شیرانی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی قائد مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ عوام میں جمعیت کی سیاست کی مقبولیت کا سبب یہ نہیں تھا کہ ہمارے پاس اکثریت اور قوت تھی بلکہ لوگوں نے اس توقع کے ساتھ ہماری دعوت قبول کی تھی کہ علما کرام کی قیادت میں محنت کرنے والی جماعت معاشرے کے متدین اور صالح و مصلح انسانوں پر مشتمل ہوگی جو روایتی لیڈروں کی طرح ذاتی ترقی کے بجائے قوم کی بہبود کا سوچے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو سیاسی فعالیت، اشتعال ردعمل اور جذبات کے تحت ہو وہ سیاست نہیں بلکہ وقتی اٹھان ہوتاہے جو کچھ مدت کے بعد جھاگ کے طرح بیٹھ جاتاہے جذبات سے متاثرہ ذہن کبھی بھی معقول فیصلے اور قوم کی درست رہنمائی نہیں کرسکتا سیاسی میدان میں خدا کی نصرت تب شامل حال ہوتی ہے جب سنجیدگی و بصیرت اور صبر و حوصلے کے ساتھ لوگوں کو ان کے آخروی فلاح اور دنیاوی نجات کے طرف دعوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو اس دعوت کا عملی نمونہ بنا کر پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں سیاست کسی کے سہارے کے بجائے ذاتی فریضے کے بنیاد پر کرنے کا قائل ہوں جس زمانے میں ہم نے بلوچستان کے طول و عرض میں پشتون و بلوچ جابر نوابوں اور سرداروں کو چیلنج کیا تھا اس وقت جماعت کے موجودہ لوگوں میں سے کوئی ایک بھی میرے ساتھ نہیں تھا جب اللہ کی مدد شامل حال ہوئی تو نقشہ بدل گیا انہوں نے کہا ہے کہ ممن عمل کا مکلف ہوتاہے جبکہ نتیجے کا مالک اللہ خود ہوتاہے جس طرح انتہائی بے بسی اور کسمپرسی میں طاغوتی قوتوں کے خلاف ہماری جدوجہد کے نتیجے میں بلوچستان میں جمعیت غالب آگئی اسی طرح ساتھی کامل یقین رکھیں کہ جماعت کو دوبارہ اپنے دینی اور خداپرستانہ ڈگر پر ڈالنے کی ہماری موجودہ جدوجہد بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگی انہوں نے کہا ہے کہ جماعت کا قبلہ تبدیل کرنے والے ساتھیوں سے مناسب وقت پر جواب طلب کروں گا کہ انہوں نے کس مینڈیٹ اور اختیار کے تحت علما دین اور نیک انسانوں کی جماعت کو انحراف اور بے راہ روی کے ڈگر پر ڈال دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں