محمود اچکزئی نے تخریبی عناصر پارٹی پر مسلط کئے،مختار یوسفززئی

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں کہا کہ پارٹی کے خیبر پشتونخوا کے صوبائی کمیٹی کا اجلاس صوبائی صدر خورشید کاکا جی کے زیر صدارت مالاکنڈ میں مرکزی سیکرٹری اول حمید خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا جب کہ جنوبی پشتونخوا کے صوبائی کمیٹی کا اجلاس سینئر نائب صدر عیسیٰ روشان کی زیر صدارت کوئٹہ کچلاک میں یوسف خان کاکڑ ہاس میں منعقد ہوا صوبائی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں پارٹی کے قومی کانگریس کی تیاریوں کے سلسلے میں مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں اور کارکنوں کو پارٹی کے تاریخی قومی کانگریس کو کامیاب بنانے کے لئے شب و روز انتھک محنت کرنے کی تاکید کی گئی مرکزی سیکرٹری جنرل مختیار خان یوسفزئی نے خیبر پشتونخوا کی کمیتی سے براہ راست اور جنوبی پشتونخوا کی صوبائی کمیٹی کے اجلاس سے بذریعہ ویڈیو کال خطاب کرتے ہوئے دونوں صوبائی ایگزیکٹو کو صوبائی کمیٹیوں کے کامیاب اجلاس منعقد کرنے پر داد و تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ پارٹی کے صوبائی اور ضلعی و علاقائی اداروں کے رہنماں و کارکنوں نے 27 اور 28 دسمبر کے تاریخی قومی کانگریس کی کامیابی کے لئے منظم انداز سے تیاریاں جاری رکھی ہیں انہوں نے کہا کہ پارٹی کا یہ تاریخی قومی کانگریس پشتونخوا ون کی قومی جمہوری سیاست کا ایک نیا باب رقم کرے گی اور پشتون افغان کی تحریک پر مسلط ماضی کے پسماندہ قبائلی اور غیر جمہوری طرز عمل سے نجات دلا کر پشتون افغان غیور ملت کی قومی سیاسی تحریک کو اجتماعی قیادت شعور اجتماعی دانش اور جمہوری طریقے سے پارٹی اور تحریک کے کارکنوں کی مشاورت اور متفقہ فیصلوں سے ایک ایسی نا قابل تسخیر قومی سیاسی تحریک بنائے گی جو اکیسویں صدی کے تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ ہو گی انہوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو گزشتہ دس سالوں کے دوران بدترین اور افسوس ناک تنظیمی اور نظریاتی بحران کا سامنا رہا پارٹی کے تمام رہنماں نے اس بحران سے پارٹی کو نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی پارٹی کے ذمہ دار عہدیدار کی حیثیت سے میں نے اور ملی شہید عثمان خان کاکڑ اور پارٹی کے دیگر رہنماں نے مسلسل پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی سے پارٹی کے مرکزی کمیٹی قومی جرگہ کے اجلاسوں اور پارٹی کے مرکزی قومی کانگریس کے انعقاد کے مطالبات کرتے رہے کہ پارتی کو درپیش سنگین بحران کا حل ممکن ہوسکے لیکن بد قسمتی سے ہمارے چیئرمین نے پارٹی کے رہنماں اور پارٹی اداروں کے مطالبات کو یکسر نظر انداز کیا بلکہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پارٹی چیئرمین نے پارٹی دشمن تخریبی عناصر کو پارٹی پر مسلط کرنے کے اقدامات اٹھائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پشتونخوامیپ جیسی منظم اور فعال قومی سیاسی پارٹی کے تمام ادارے بدترین انتشار اور تنظیمی اور نظریاتی بحران سے شکار بنی ہے ایسے حالات میں میں نے 9اکتوبر کو ایک بیان میں چیئرمین سے مرکزی کمیتی کا اجلاس منعقد کر نے کی اشد ضرورت پر زور دیا لیکن انہوں نے اجلاس بلانے کی بجائے پارٹی اداروں کے ذمہ دار عہداروں کو پارٹی سے خارج کر نے کا آغاز کیا صدیق آغا، سید اکبر، محمد دین خلجی، چیئرمین اللہ نور، قیوم ایڈووکیٹ،عزیز ایڈووکیٹ کو پارٹی سے خارج و معطل کرنے کے بعد پارٹی کے مرکزی ایگزیکٹیو کے اراکین مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمد رضا، بابت خان جیسے اہم عہداروں کو یک جنبش قلم پارٹی سے خارج کرنے سے غیر آئینی اور آمرانہ فیصلے صادر کیے حالا نکہ ان رہنماؤں نے گزشتہ 50سال سے زائد مدت تک پارٹی کے پلیٹ فارم سے قومی تحریک کے لئے پر افتتخار قربانیاں دی ہیں انہوں نے کہا کہ چیئرمین صاحب کے طرز عمل سے مایوس ہو کر میں نے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے اپنے آئینی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے مرکزی کمیٹی کا اجلاس کوئٹہ کچلاک میں منعقد کیا جس میں مرکزی کمیٹی کے اراکین کی واضح اکثریت نے شرکت کرکے پارٹی چیئرمین کے تمام غیر آئینی فیصلوں کو متفرقہ رائے سے مسترد کیا اور پارٹی کے تمام رہنماں کی رکنیت بحال رکھنے کا فیصلہ کیا مرکزی کمیٹی نے پارٹی چیئرمین کی پارٹی سیاست کی مخالفت بیانیے کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی اپنے بنیادی قومی سیاسی اہداف کی تکمیل کے لئے اپنے دیرینہ سیاسی بیانیے پر قائم رہے گی مرکزی کمیٹی نے پارٹی کو تنظیمی اور نظریاتی بحران سے مستقل طور پر نکالنے کے لئے 27 اور 28 دسمبر 2022 کو کوئٹہ میں پارٹی کی قومی کانگریس کے انعقاد کا فیصلہ کیا مرکزی کمیٹی نے پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی سے استدعا کی کہ وہ قومی کانگریس میں شامل ہو اور اپنے موقف کے حق میں کانگریس کو مطمئن کرے لیکن انہوں نے میرے بشمول شمالی پشتونخوا کے تمام کابینہ کو پارٹی سے خارج کرنے کا فرمان صادر کیاانہوں نے کہا کہ چیئرمین نے گزشتہ شب 12بجے بیان جاری کیا ہے کہ 19دسمبر کو پارٹی کا نگرس منعقد ہوگا ان کا یہ شخصی بیان پارٹی کے آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے پشتونخوا میپ کے مرکزی رہنما اداروں، قومی جرگہ، مرکزی کمیٹی اور ہزاروں پارٹی یونٹوں کی موجودگی میں ایک فرد پارٹی پر اپنے آمرانہ فیصلے مسلط کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتا پشتونخوا میپ کے مرکزی کمیٹی نے چئیرمین کے غیر آئینی پارٹی مخالف فیصلوں پر ان کے اختیارات معطل کئے ہیں اور مرکزی سیکرٹری جنرل کو پارٹی مخالفٖ اقدامات کے خلاف فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے انہوں نے کہا کہ پشتونخوا میپ کے مرکزی ایگزیکٹیو،شمالی پشتونخوا کے صوبائی کمیٹی اور جنوبی پشتونخوا کے صوبائی کمیٹی نے 11دسمبر کے اجلاسوں میں متفقہ طور پر19دسمبر کے کانگرس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مستردکیا اور واضح کیا ہے کہ پارٹی کے مجاز ادارے مرکزی کمیٹی نے 27،28دسمبر کو قومی کانگرس کا فیصلہ 23نومبر کو کیا ہے جس کے انعقاد کی تیاریاں مکمل ہونے کے قریب ہیں انہوں نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ 19دسمبر کے کانگرس کو غیر آئینی قرار دے کیونکہ مذکورہ کانگرس پارٹی آئین اور پولیٹیکل پارٹیزایکٹ کے سراسرمنافی ہے پشتونخوا میپ اس غیر آئینی اقدام کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کرے گی انہوں نے کہا کہ پشتونخوا میپ کی قومی کانگرس کے فیصلوں کا حق پارٹی کے تمام اداروں کے ہزاروں مندوبین کو حاصل ہے پشتونخواہ میپ چند لیڈروں اور خانوں کی پارٹی نہیں یہ پشتون افغان ملت کے عظیم قومی رہنماوں اور عظیم شہدا کی پارٹی ہے جس میں ملی شہید عثمان خان کاکڑ کا مقدس لہو شامل ہے پشتونخوا میپ کے باکر دار اور با شعور کارکن اس مقدس قومی تحریک کا کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے صوبائی کمیٹیوں کے اجلاسوں سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمدرضا، سیکرٹری اول حمید خان، شمالی پشتونخوا کے صوبائی صدر خورشید کا کاجی، جنوبی پشتونخوا کے سینئیر نائب صدر عیسیٰ روشان،صوبائی سیکرٹری ایم پی اے نصراللہ زیرے اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری یوسف خان کا کڑ نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں