وسائل سے بلوچستان کا بھلا نہیں ہورہا، اختیارات ملنے سے پسماندگی دور ہوسکتی ہے، غفور حیدری

پنجگور (نمائندہ خصوصی) جمیعت علماءاسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ آئین کا تقاضا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کے پاس ہوں، بلوچستان کے وسائل پر وفاق جو بھی فیصلہ کرے صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر کرے، پی ڈی ایم کی حکومت گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دے رہی ہے، عمرانی فتنے نے ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچایا ہے، آج آگر معیشت تباہ ہے اس میں عمران خان کی چار سالہ حکومت کی غلط پالیسیاں شامل ہیں۔ 2018ءکے انتخابات پر جے یو آئی نے شروع دن سے تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن اس وقت عمران خان نہیں مان رہا تھا اب اسے کیوں الیکشن کی جلدی ہے انتخابات مقررہ وقت پر ہونگے کوئی جلد بازی نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حاجی یسین زہری کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جے یو آئی کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ، حاجی عبدالعزیز، سردار ظفراللہ گچکی، مولانا عبدالحمید مدنی، مولانا علی احمد، ارباب عادل، مولانا عبدالحلیم اور دیگر پارٹی رہنما موجود تھے۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کے لیے نیک نیتی درکار ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے اپنے وسائل پر بااختیار ہیں وفاق اگر کوئی فیصلہ کرنا چاہتا ہے تو صوبے کو اعتماد میں لیکر اسکی مرضی سے معاملات طے کرے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ءکے انتخابات ڈھونگ تھے، جو بدترین دھاندلی اور جعل سازی کے ذریعے عمران خان کو اکثریت دلائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جے یوآئی نے پہلے دن سے ان انتخابات کو جعلی قرار دیا تھا اور سب سیاسی پارٹیوں کو طلب کرکے ان سے کہا تھا ان جعلی انتخابات کے ذریعے ایک بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت پی ٹی آئی کوجعلی مینڈیٹ دیا گیا، جس کیخلاف ہم اکٹھے ہوکر اسمبلیوں کا حلف نہیں اٹھائیں گے مگر دوسری جماعتوں نے ہماری رائے سے اتفاق نہیں کیا اور اسمبلی کا حلف اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان جعلی انتخابات کیخلاف آزادی مارچ اور ملین مارچ کیا لیکن ہمارے اجتماعات اور مارچ میں نہ کسی کا نقصان کیا اور نہ کسی کی جان گئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مارچ اور جلسوں کے نام پر لوگوں کا نقصان کیا، قوم پرست بھی پی ڈی ایم کا حصہ ہیں، ہم چاہتے ہیں الیکشن ہوں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ عمران خان نے ہماری ثقافت، اقدار اور معیشت کو تباہ وبرباد کیا۔ عمران خان چار سال کی حکومت میں ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، اور ڈالر کو نیچے لانے کا دعویدار تھا مگر ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا ملکی معیشت انکی کوتاہ بینیوں کی وجہ سے بیٹھ چکی ہے، جسے اٹھانے میں اب وقت تو لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے پی ڈی ایم کے دوستوں کو مشورہ دیا کہ وہ سب سے پہلے انتخابی اصلاحات کریں اور معیشت کی ساکھ کو بھی بحال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن سے بھاگ نہیں رہے، 8 مہینے باقی رہ گئے ہیں، عمران خان کی جماعت تیاری کرے ہم بھی تیاری کریں گے، مہنگاہی کی ذمہ دار بھی پی ٹی آئی ہے اگر عمران خان مسند اقتدار پر بیٹھنے کے بعد معیشت پر توجہ دیتا تو یہ دن پاکستانیوں کو دیکھنے نہیں پڑتے۔عمران خان نے اقتدار کی طوالت کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا یہ سب اس کے اثرات ہیں، ساڑھے تین سال میں وہ معیشت اور اپنے وعدوں پر توجہ دیتا، شاید کچھ بہتری آجاتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیلاب سے کافی نقصان ہوا اور یہ نقصانات اس وقت ہوئے جب ہماری معیشت بیساکھیوں پر تھی بلکہ یوں کہیں یہ کینسر زدہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی یہ کوشش ہے کہ معیشت ٹھیک ہو، نوجوانوں کو روزگار ملے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ایک تحریک ہے، انتخابی اتحاد نہیں ہے اگر اس میں شامل جماعتیں یہ طے کریں کہ اس کے پلیٹ فارم سے اگلا الیکشن لڑیں گے تو معاملہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیٹ جیتیں یا نہ جیتیں یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے البتہ ایک ملک گیر پارٹی ہونے کے ناطے جمعیت دوستوں کو جتوا سکتی ہے، جمعیت کا ملک کے کونے کونے میں ووٹ بینک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان غریب نہیں ہے بلکہ اسے غریب رکھا گیا ہے، بدقسمتی سے حکومتیں بنتی اور چلی جاتی ہیں مگر بلوچستان کے بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دیتیں، اس لیے صوبہ دن بدن پسماندگی کی طرف جارہاہے۔ بلوچستان میں سونا، چاندی، کرومائٹ، تانبا، کوئلہ، گیس اور دیگر معدنیات وافر مقدار میں نکلتی ہیں مگر ان وسائل سے بلوچستان کا کوئی بھلا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اٹھارویں ترمیم کے بعد حق ملنا چاہیے ان کے وسائل ان کی مرضی کے مطابق ان کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونا چاہیئں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں