اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کا قبلہ اول پر دھاوا، تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی
بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) صہیونی فوج نے مسجد الاقصیٰ کے صحنوں پر دھاوا بول دیا۔ بعد ازاں یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد نے اسرائیلی پولیس اور فوج کی فول پروف سکیورٹی میں مسجد اقصی پر دھاوا بولا۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فورسز نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوا بولا اور جگہ جگہ پھیل گئے۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی موجودگی میں آباد کاروں نے تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔ اسرائیلی فوج کے گھیراؤ سے قبل فلسطینیوں کی بڑی تعداد قبلہ اول میں موجود تھی۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ فلسطینی نمازیوں کے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے قبلہ اول کی فضا گونج اٹھی۔ اس دوران فلسطینی نوجوانوں نے اسرائیلی فوج پر سنگ باری کی جبکہ دوسری طرف سے اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی نمازیوں کو قبلہ اول سے باہر نکالنے کے لیے ان پر طاقت کا استعمال کیا اور ان پر صوتی بم برسائے۔ اسرائیلی افواج کی مخالفت میں نمازیوں کے ایک گروپ نے مسجد کے صحنوں میں اجتماعی نماز ادا کرنا شروع کردی۔بعد میں ہونے والی پیش رفت میں درجنوں آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔ یہودی شرپسندوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے فول پروف سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ جیسے ہی آباد کاروں کے پہلے گروہ نے الاقصیٰ کے صحن پر دھاوا بولا تو وہاں پرموجود مردو خواتین نمازیوں نے تکبیر کے نعرے لگائے اور قبلہ اول کے دفاع کے عزم اور اس کی آزادی کے لیے نعرے لگائے۔ خیال رہے کہ جمعہ اور ہفتے کے سوا باقی تمام ایام میں یہودی آباد کار اسرائیل فوج اور پولیس کی سرکاری سرپرستی میں قبلہ اول پر دھاوے بولتے اور وہاں پر تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔


