حب سوشل سیکورٹی اسپتال بیوروکریسی کی بھینٹ جڑھ گیا تمام شعبے غیر فعال

حب(رپورٹ/عزیز لاسی) حب صنعتی ورکرز کے علاج معالجہ کیلئے قائم 50بیڈ ڈسوشل سیکورٹی اسپتال بیوروکریسی کی بھینٹ چڑھ گیا،اسپتال میں علاج معالجہ کی کوئی سہولت موجود نہیں تمام شعبہ جات غیر فعال ہیں اسپتال کے امور چلانے کیلئے 109ملازمین کا چوتھائی حصہ بھی ڈیوٹی نہیں کرتا،3ہزار سے زائد رجسٹرڈ فیکٹری ملازمین کا ماہانہ کنٹری بیوشن لیا جاتا ہے پورا اسپتال غیر فعال ہے جبکہ کراچی کے اسپتالوں کو کنٹریکٹ دیکر وہاں کیلئے کروڑوں روپے فنڈز نکالے جارہے ہیں پھر بھی کراچی کے مختلف اسپتالوں کا ادارہ مقروض ہے واجبات کی عدم ادائیگی کے سبب کراچی کے کنٹریکٹ (پینل) اسپتالوں میں بھی حب کے فیکٹری ورکرز کے علاج معالجہ میں رکاوٹیں آنے لگیں اسپتال انتظامیہ بے بس ولاچار اور بے اختیار بیوروکریسی کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کو خفیہ نوکریاں اور دیکر مراعات سے نواز کر خاموش کردیا جاتا ہے سوشل سیکورٹی کے پورے نظام کو کوئٹہ بیو رو کریسی کا حب میں ایک فرنٹ مین آفیسر ڈیل کرتا ہے جبکہ اسپتال کے تمام اسٹاف او ر معاملات و اُمور کی نگرانی بھی کلاس فورکے ایک ملازم کے سپرد ہے اسپتال کے میڈیکل اسٹور میں ادویات دستیاب نہیں جبکہ ماہوار لاکھوں روپے کے بل وصول کئے جارہے ہیں میڈیکل اسٹور سے غیر معیاری ادویات کی فراہمی کا بھی انکشاف ایک جانب اسپتال میں اسٹاف کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے تو دوسری طرف منظور نظر افراد کو نوازنے کیلئے پہلے سے بھرتی ملازمین کو برطرف کردیا جاتا ہے کوئی پُر سان حال نہیں سب بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ حب کے صنعتی ورکرز کے علاج ومعالجہ کے حوالے سے 50بیڈڈ اسپتال سوشل سیکورٹی اسپتال کا قیام 2008؁ء میں عمل لایا گیا اسپتال کے قیام کے بعد چند سال اسکی کارکردگی قدر بہتررہی اور فعال رہا لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسپتال فیکٹری ورکرز کے علاج معالجہ کا مرکز ہونے کے بجائے بیورو کریسی کی کمائی کا ذریعہ بنتا گیا اور پچھلے ایک دو سالوں سے تو اسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو کر اب کھنڈرات کے مناظر پیش کر رہا ہے چند ایک ملازمین کے علاوہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات نظر آتی ہے اور ہوکاعالم رہتا ہے اسپتال کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کی روشنی میں جب ”ٹیم انتخاب“نے سوشل سیکورٹی اسپتال کا وزٹ کیا تو اسوقت بھی پورا اسپتال خالی پڑا ہوا تھا اسپتال کی انتظامی اُمور کی سربراہ میڈیکل سپریٹنڈنٹ لیڈی ڈاکٹر اپنے دفتر میں فائلوں پر دستخط کرتی ہوئی مصروف نظر آئیں تاہم جب ”ٹیم انتخاب“ نے اسپتال کے وزٹ کی بات کی تو اسپتال کے اُمور فرنٹ مین کلاس 4کے ملازم سامنے آگئے تاہم جب اسپتال کے مختلف شعبہ جات کا جائزہ لیا گیا تو نہ تو اسپتال کی لیبارٹری اور نہ ہی آپریشن تھیٹر نہ لیبر روم (زچکی خانہ) فعال دکھائی دیئے بلکہ انہیں تالے پڑے ہوئے تھے ایکسرے پلانٹ کا کمرہ بھی بند پایا گیا تمام وارڈز ویران پڑے ہوئے پائے گئے الٹرا ساؤنڈ کے کمرے کو بھی تالے لگے ہوئے تھے استقبالیہ کا ؤنٹرز پر جمی مٹی دھول سے اندازہ لگایا گیا کہ یہاں پر کسی ملازم کی موجودگی کو ایک عرصہ گزر چکا ہے اسپتال میں صفائی ستھرائی کا کوئی نظام نظر نہیں آیا ”ٹیم انتخاب“ جب اسپتال کے میڈیکل اسٹور پہنچی تو دیکھا کہ وہ ایک کچرہ دان کے مناظر پیش کر رہا تھا اور ادویات رکھنے کے ریکس تقریباً خالی دکھائی دیئے جبکہ اسی میڈیکل اسٹور سے فیکٹری ملازمین کو ادویات دینے کے نام پر ماہوار لاکھوں روپے کے بل بنا کر خزانے کو چونا لگایا جارہا ہے اسپتال میں نہ تو پینے کے پانی کا کوئی بندوبست نظر آیا اور نہ ہی بجلی کا کوئی مستقل نظام ہے میڈیکل اسٹور سے ”ٹیم انتخاب“ کے نکلتے ہی اسٹاف نے اُسے تالے لگا دیئے جس پر ایک فیکٹری ورکر وہاں دوائی کے حصول کیلئے فریاد کرتا نظر آیا مذکورہ فیکٹری ورکرنے بتایا کہ وہ ڈاکٹر کی پرچی لیئے پچھلے ایک ہفتے سے اسپتال کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن دوائی نہیں دی جارہی ہے حالانکہ اُسکی طبیعت کافی خراب ہے اور اُسے دوا کی ضرورت ہے مذکورہ محنت کش نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ڈاکٹرز جو دوائی لکھ کر دیتے ہیں وہ دوائی نہیں دی جاتی بلکہ ہلکی کوالٹی کی غیر معیاری دوائی جو کہ قیمت میں سستی ہوتی ہے وہ دی جاتی ہے جبکہ اُسکے عوض بل میں ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دوائی کی رقم وصول کی جاتی ہے اس طرح سے فیکٹری ورکرفیڈریشن کے ایک رہنماء جو کہ اسپتال کمیٹی کے ممبر بھی ہیں نور اللہ بزنجو نے بتایا کہ سوشل سیکورٹی اسپتال کی پچھلے چار پانچ سال سے حالت انتہائی تباہ کن ہو چکی ہے اس سے قبل قدر بہتر تھا انھوں نے بتایا کہ سوشل سیکورٹی اسپتال حب کراچی کے مختلف اسپتال جنہیں کراچی میں رہائش پذیر حب کی فیکٹریوں سمیت حب کے رہائشی ورکرز کو صحت کی سہولت دینے کیلئے کنٹریکٹ پر لیا گیا تھا انکے بھی کروڑوں روپے کا مقروض ہے جسکی وجہ سے ان دنوں کراچی کے پینل اسپتالوں کی انتظامیہ کا رویہ بھی درست نہیں ہے انھوں نے کہاکہ میڈیکل اسٹور ہویاپینل اسپتال کو کنٹریکٹ دینے کا مقصد محض مبینہ کمیشن کی رقم بٹورنا ہوتا ہے نور ا اللہ بزنجو نے بتایا کہ حب سوشل سیکورٹی اسپتال میں سہولتوں کے فقدان پر فیکٹری یو نینوں نے کافی بار احتجاج بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ حب اسپتال کی حالت کو بہتر بنایا جائے لیبر ڈیپارٹمنٹ اگر کراچی کے اسپتالوں کو کروڑوں روپے کے بل دے سکتی ہے تو اسی رقم سے حب اسپتال کو بہتر کیوں نہیں بنایا جاسکتا لیکن بیورو کریسی اور حب میں بیٹھے بعض افسران حب اسپتال کو کسی بھی قیمت پرفعال بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ اگر یہ اسپتال فعال ہوتا ہے تو ان افسران کی کمیشن ختم ہو گی جسے وہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتے وہاں موجود فیکٹری ورکرز مزدور یونین کے نمائندے اور بعض ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسپتال کی دوایمبولینس گاڑیاں موجود ہیں لیکن یہ گاڑیاں مریضوں کی سہولت کیلئے نہیں بلکہ افسران کے زیر استعمال رہتی ہیں یا پھر کسی بڑے آدمی اور آفیسر کے کسی مریض کی سہولت کیلئے استعمال ہوتی ہیں اور اگر کسی ایمرجنسی میں کسی فیکٹری ورکر کو ایمبولینس کی ضرورت پڑ جائے تو اسکا استعمال ایمبولینس کے فیول کی رقم دینے سے مشروط ہوتی ہے مزید برآں جب ٹیم انتخاب نے اسپتال کی مخدوش صورتحال غیر فعال شعبہ جات اور لوگوں کی شکایات کے جواب اسپتال کی میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر شاہ بانو سے معلوم کرنا چاہئے تو انکے اسپتال کو فعال رکھنے مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولتیں دینے اور اسپتال کو بہتر انداز میں چلانے کی دلچسپی میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہ دیکھی گئی کہ وہ حقیقت میں ایک مسیحا ہیں لیکن انتظامی اُمور کے حوالے سے وہ کافی حد تک بے بس اور بے اختیار نظر آئیں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انکے اسپتال کے عملے کی کل تعداد 109ہے جن میں 8میل اور فی میل ڈاکٹرز ہیں ان میں 3لیڈی میڈیکل اور 5میل میڈیکل آفیسرز ہیں لیکن ان ڈاکٹرز میں کوئی بھی سرجن نہیں ہے اور نہ ہی گائناکو لوجسٹ ہے ڈاکٹر ز کی حاضری کے سوال کے جواب میں خاتون میڈیکل سپریٹنڈنٹ نے بتایا کہ ان میں سے اکثریت میں ڈاکٹر ز آتے ہیں اور کچھ ڈیوٹی نہیں کرتے انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ایکسرے مشین معمولی خرابی کے سبب غیر فعال ہے جبکہ لیبارٹری کے مختلف ٹیسٹ کے کٹس نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی بند ہے جسکی وجہ سے کسی مریض کو ٹیسٹ کرانے کی صورت میں اُسے کراچی ریفر کیا جاتا ہے انھوں نے بتایا کہ 2008؁ء اور2009؁ء سے2012؁ء اور2013؁ء تک اسپتال مکمل طور پر فعال تھا انھوں نے بتایا کہ اسپتال کے میڈیکل اسٹور جو کہ کنٹریکٹ پر دیا گیا ہے کے ایشوز ہیں اس حوالے سے کنٹریکٹ کی تبدیلی پر غور کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں