پی ایم ڈی سی نے دس میڈیکل، ڈینٹل کالجز کی سند غیر قانونی قرار دے دی


اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے 10 میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی سند غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں مزید داخلے کرنے سے روک دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کونسل نے فیصلہ کیا کہ پہلے سے داخل طالب علموں کو دیگر کالجز میں ڈالا جائے گا تاکہ ان کی تعلیم میں کوئی خلل نہ پڑے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٖ آرڈیننس، جس کے تحت پی ایم سی کا قیام عمل میں آیا تھا، کو ختم کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن (پامی) کے جنرل سیکریٹری خاقان وحید خواجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پی ایم ڈی سی کے صدر سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ انسپیکشن کا مرحلہ ایک ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا۔

کونسل کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق جہاں پی ایم سی کے تمام اقدامات غیر قانونی قرار دے دیے گئے ہہیں وہیں ان کو دیے گئے سند اور رجسٹریشن کو بھی غیر قانونی سمجھا جارہا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ 10 کالجز کو نئے طالب علموں کا داخلہ کرنے سے روکا گیا ہے اور 2019-20 کے لیے داخل طالب علموں کو دیگر کالجز میں ایڈجسٹ کیا جائے گا جو پی ایم ڈی سی سے منظور شدہ ہیں۔

پنجاب کے دو کالجز راولپنڈی کے وطیم میڈیکل کالج اور لاہور کے ناہید ڈینٹل کالج اور اسلام آباد کے شفا کالج آف ڈینٹسٹری، شفا تعمیر ملت اور راول انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کے ڈینٹل سیکشن کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں