بلوچستان اسمبلی، نئے ڈویژن اور اضلاع پر اپوزیشن اورحکومتی رکن کو تحفظات، واک آوٹ

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نئے ڈویژن اور ا اضلاع کے معاملے پر اپوزیشن کا ایوان سے واک آو¿ٹ جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بلوچستان حکومت کی جانب سے نئے اضلاع اور ڈویژن کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی جغرافیائی قبائلی تاریخ کو مسخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے جمیعت علماء اسلام کے رکن سابق وزیراعلی نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا کہ حکومت نے ضلع کچھی کو سبی اور مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیا ہے پاکستان مختلف اقوام کے مجموعے کی ریاست ہے اقوام یہاں صدیوں سے آباد ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کچھی اور مستونگ قلات اسٹیٹ کے اہم جز تھے کسی کے مشورے یا اس سوچ سے کہ ایسا کرنے سے یہاں امن ا ٓجائے گا ایسا کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے انہوں نے کہا کہ نوکریوں، تعلیمی اداروں کی سیٹوں سمیت دیگر چھوٹے چھوٹے مسائل پر برادر قوموں کے درمیان فساد پیدا ہوں گے ہم اس فیصلے کو قبول نہیں کرتے اسے واپس لیا جائے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ احتجاجا ایوان سے واک آوٹ کریں گے۔ صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ مستونگ میں انگریز دور میں شاہی جرگا ہوا کرتا تھا شاہی باغ میں سراوان اور جھلاوان اقوام کے سردار اکٹھے ہوتے تھے مستونگ کی تاریخی حیثیت ہے اسے کوئٹہ میں شامل کرنا زیادتی ہوگی صوبے کی تاریخی حیثیت کو مسخ کیا جا رہا ہے کابینہ میں عجیب و غریب فیصلے کیے گئے اپر ڈیرہ بکٹی کے نام سے ایک سب تحصیل کو ضلع بنا دیا گیا بتایا گیا کہ ڈیرہ بگٹی تک جانے کا فاصلہ 642 کلومیٹر ہے جبکہ ڈیرہ بگٹی سے بیکڑ کا فاصلہ صرف 94 کلومیٹر ہے ڈیرہ بگٹی سے بی لوٹی کا فاصلہ 31 کلومیٹر ہے ڈیرہ بگٹی سے پیر کوہ کا راستہ 21 کلومیٹر ہے چونکہ پیر کوہ میں تیل اور گیس ہے اس لیے اسے اپر ڈیرہ بگٹی میں شامل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لوٹی سے بیکڑ 125 کلومیٹر ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے علاقے صدیوں سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں کچھ لوگوں نے ایک دور میں زمین بیچی تھی 30 کلومیٹر پر مشتمل ہمارے چار موزے اپر ڈیرہ بگٹی میں شامل کر دیے گئے ہیں آج ایک شخص برسر اقتدار ا کر بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت ختم کرنا چاہتا ہے یہ شرم کا مقام ہے سمجھ نہیں ا ٓرہا وہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں ایک شخص کے لیے خضدار کی حیثیت کو تبدیل کیا جا رہا ہے کوہ سلیمان کے نام سے ڈویژن بنا دیا گیا بلوچستان کو ہ سلیمان کا حصہ نہیں ہے وزیر اعلی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے برے وقت کا احسان اتارا ہے بلوچستان جل رہا ہے ایسے اقدامات نہیں کیے جائیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے علاقوں میں دن کو بھی سفر نہیں کر پاتے رات تو دور کی بات ہے انہوں نے کہا کہ سپیکر اس معاملے پر رولنگ دیں نواب اسلم رئیسانی کہا کہ بلوچ دشمن فیصلوں کی مذمت کرتے ہیں ہم نہ مائنز اینڈ منرلز نہ انسداد دہشت گردی اور نہ ہی اس جیسے دیگر قوانین کو تسلیم کریں گے اس موقع پر اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک او¿ٹ کیا حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ اگر مجھے کابینہ میں اعتماد میں نہ لیا جاتا تو میں اسی وزارت پر لات مارتا اور لعنت بھیجتا بلوچستان جل رہا ہے اور ایوان سے اپوزیشن ارکان نے واک آو¿ٹ کیا ہے ۔اس موقع پر سپیکر نے مولانا ہدایت الرحمن کی جانب سے کہے گئے غیر پارلیمانی الفاظ کو کاروائی سے حذف کر دیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا بلوچستان کابینہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے انتظامی طور پر فیصلے کر رہی ہے تاکہ بہتر انتظام کے ذریعے عوام کو ثمرات پہنچائے جا سکیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسی قسم کی تاریخ مسخ نہیں کی بلوچ دشمن فیصلوں کے الفاظ کی مذمت کرتا ہوں حکومت تاریخی فیصلے کر رہی ہے اور وقت ثابت کرے گا یہ فیصلے درست تھے ۔عوامی نیشنل پارٹی کے رکن انجینیئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن کو ایوان میں دوبارہ بلایا جائے انہوں نے کہا کہ میں اضلاع اور ڈویژن بنانے کے حق میں ہوں لیکن تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں بھی لینا چاہیے ۔اس موقع پر سپیکر نے انجینیئرزمرک خان اچکزئی ، حاجی علی مدد جتک ،اشوک کمار ،سردار کوہیار ڈومکی پر مشتمل وفدکو اپوزیشن کو منانے کے لیے بھیجا جو اپوزیشن کو ایوان میں واپس لے کر ایا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی نے کہا کہ گزشتہ شب افغان فورسز نے اشتعال انگیزی کی جس کی مذمت کرتے ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں پاک فوج نے جو جواب دیا ہے اور عظیم فتح حاصل کی ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے ہمسایہ ممالک کو سوچنا ہوگا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اس کے پاس بڑی اور طاقتور فورس موجود ہے اگر وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتے رہیں گے اور اپنی زمین استعمال ہونے دیتے رہیں گے تو پاکستان کو حق حاصل ہے کہ وہ ان کا پیچھا کرے اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرے ۔انہوں نے کہا کہ نئے اضلا اور ڈویژن جن میں تمپ ،ا پر ڈیرہ بگٹی، بر شور اور کوہ سلیمان شامل ہےں پر ایوان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع اور ڈویژن انتظامی بنیادوں پر بننے چاہیے اور اس طرح بننے چاہیے کہ عوامی مسائل حل ہوں اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے ہم آج تک بلوچستان کے غریب عوام کوملکیت دینے کو تیار نہیں ہم اپنے سیاسی اور قبائلی مفادات کا تحفظ دیکھتے ہیں اب دنیا بہت آگے چلی گئی ہے اے آئی کا دور ہے ہم آج بھی انگریز کے دور کی باتیں کر رہے ہیں کیچ میں نیا ضلع بنا ہے ہمارے لوگوں نے اس کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردار عبدالرحمن کھیتران کابینہ میں بات کر سکتے ہیں نہ کہ ایوان میں فیصلے کی مخالفت کرتے اگر لوگ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو انہیں بڑھنے دیں اضلاع اور ڈویژن کے قیام کا فیصلے کو عوام نے سراہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے