پٹرول کی پرانی قیمتیں بحال نہ ہوئیں تو کوئٹہ سے کشمیر تک مظاہرے و شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، کاشف حیدری

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان اور تنظیم تاجران پاکستان کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کاشف حیدری نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پرانی سطح پر لانے کے لیے ملک بھر کی تاجر تنظیموں کی سطح پر مشاورت جاری ہے اور حکومت کو تین دن کا الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ اگر قیمتیں بحال نہ ہوئیں تو پہلے مرحلے میں ملک گیر احتجاج اور پھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا جا سکتا ہے، یہ بات انہوں نے کوئٹہ پریس کلب کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے گوادر اور کراچی سے کشمیر تک تمام تاجر تنظیمیں اس وقت رابطے میں ہیں کیونکہ گزشتہ 15 دنوں میں دو بار قیمتوں میں اضافہ عوام اور تاجروں کا معاشی قتل ہے، کاشف حیدری نے حکومت کی جانب سے قیمتوں میں محض 80 روپے کی کمی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ‘اونٹ کے منہ میں زیرہ’ قرار دیا اور کہا کہ پہلے 130 روپے بڑھا کر پھر معمولی کمی کرنا عوام کو طفل تسلیاں دینے کے مترادف ہے، انہوں نے ہزارگی مثال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کو موت کا خوف دلا کر درد پر راضی کرنا چاہتی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار قیمتوں میں ردوبدل کا دورانیہ 7 دن کر دیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول کا نایاب ہونا اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں میں سبسڈی کے اعلانات بیانات کی حد تک ہیں جب تک وفاقی سطح پر پرانی قیمتیں بحال نہیں کی جاتیں عوام کو ریلیف نہیں ملے گا، مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں کوئٹہ سے کشمیر تک تمام تاجر سڑکوں پر ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں