مولانا ادریس کا قتل قرآن و سنت اور پاکستان کی بات کرنے والوں پر حملہ ہے، قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، مولانا فضل الرحمن
اسلام آباد (آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جید عالم دین، شیخ الحدیث اور سابق ایم پی اے شیخ محمد ادریس کی شہادت پر شدید افسوس اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو قرآن و سنت اور پاکستان کی بات کرنے والوں پر حملہ قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کی خبر سے دل رنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم نے اسلام اور پاکستان کے دفاع کی بھاری قیمت چکائی اور اپنی پوری زندگی دین کی اشاعت و خدمت میں وقف کی۔انہوں نے کہا کہ سفید ریش علماءکرام اس ملک کے بے لوث نظریاتی محافظ ہیں، تاہم افسوس کہ ان کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں۔ ان کے مطابق مولانا ادریس ہمیشہ امن کی بات کرتے رہے مگر آج وہ خود بدامنی کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے مرحوم کو بلند پایہ عالم، نکتہ داں واعظ اور مدبر سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے ان کا برسوں پر محیط اعتماد، شفقت اور دوستی کا تعلق تھا، اور ان کی شہادت نے انہیں مخلص دوست اور باوفا رہنما سے محروم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دارلعلوم حقانیہ سمیت جے یو آئی کے تمام کارکنان اس سانحے پر شدید غمزدہ ہیں، جبکہ مرحوم کی پوری زندگی دینی خدمات اور علمی رہنمائی سے عبارت تھی۔ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے نشانِ عبرت بنایا جائے، جبکہ ملک میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور دہشت گردی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا ادریس کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کی خدمات کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔


