4 جون کو پشین میں کانفرنس صرف ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کی ترجمانی کرے گی، مولانا واسع

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع اور صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے 4 جون کو منعقد ہونے والی “تحفظِ دینی مدارس و حقوقِ بلوچستان کانفرنس” کے حوالے سے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جمعیت علماءاسلام کو دیوار سے لگانے، دینی مدارس کے کردار کو کمزور کرنے اور بلوچستان کے عوامی حقوق کو دبانے کی کوششیں کرنے والے اب نوشتہ دیوار پڑھ لیں۔ وقت قریب آچکا ہے جب اہلِ بلوچستان اپنے شعور، غیرت اور اجتماعی قوت سے واضح پیغام دیں گے کہ دینی مدارس نہ کبھی لاوارث تھے اور نہ ہی آئندہ کسی کو یہ جرات ہوگی کہ وہ ان مقدس اداروں کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ، اسلام کی حقیقی روح کے امین اور قوم کے بچوں کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت کے عظیم مراکز ہیں۔ مدارس کے خلاف ہر سازش دراصل اسلامی اقدار، دینی شعائر اور قومی تشخص کے خلاف سازش ہے۔ جمعیت علماءاسلام ہر محاذ پر مدارس، مساجد، شعائرِ اسلام اور دینی تشخص کے دفاع کیلئے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگی۔صوبائی قائدین نے کہا کہ 4 جون کو سرزمینِ پشین میں ہونے والی تاریخی کانفرنس صرف ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے جذبات، محرومیوں اور حقوق کی ترجمانی کرے گی۔ بلوچستان بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید، علمائکرام، قبائلی عمائدین، نوجوان اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام پشین پہنچ کر یہ ثابت کریں گے کہ دین اور حقوقِ بلوچستان کے تحفظ کیلئے پوری قوم متحد ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاست کا اصل محور اقتدار نہیں بلکہ دینی اقدار کی حفاظت، عوامی حقوق کا دفاع اور مظلوم طبقات کی آواز بننا ہے۔ بدقسمتی سے بلوچستان کے قومی وسائل، معدنیات اور عوامی حقِ حکمرانی پر چند مخصوص اور من پسند عناصر کو مسلط کرکے صوبے کے عوام کو مسلسل محرومی، بے روزگاری، بدامنی اور پسماندگی کی دلدل میں دھکیلا جارہا ہے۔ وسائل بلوچستان کے ہیں مگر فائدہ کہیں اور منتقل کیا جارہا ہے، جبکہ یہاں کے نوجوان مایوسی، غربت اور بے یقینی کا شکار ہیں۔رہنماو¿ں نے واضح کیا کہ 4 جون کا عظیم الشان اجتماع ان تمام ناانصافیوں، استحصالی پالیسیوں اور بلوچستان کے وسائل پر قبضے کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوگا۔ اس دن بلوچستان کا باشعور عوام اپنے اتحاد، قوت اور اجتماعی آواز سے یہ اعلان کرے گا کہ اب مزید خاموشی نہیں ہوگی، نہ مدارس کے خلاف کوئی سازش برداشت کی جائے گی اور نہ ہی بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کھلی چھوٹ دی جائے گی۔انہوں نے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ بھرپور انداز میں کانفرنس میں شرکت کرکے دین، مدارس، صوبے کے حقوق اور قومی وقار کے تحفظ کیلئے اپنی ذمہ داری ادا کریں، تاکہ پوری دنیا پر واضح ہوجائے کہ بلوچستان کے عوام اپنے دین، نظریے اور قومی حقوق کے دفاع کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں