گوادر میں حق دو تحریک کے دھرنے پر پولیس گردی و گرفتاریوں کیخلاف جماعت اسلامی کا بلوچستان بھر میں احتجاج، شاہراہیں بند کردیں
کوئٹہ (انتخاب نیوز) حق دوتحریک کے دھرنے پر پولیس گردی، قا ئدین ودھرناشرکاء پر تشدد، مقدمات وگرفتاریوں کے خلاف حق دوتحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمان بلوچ وجماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالحق ہاشمی کی کال پر بلوچستان بھر میں احتجاج، جلسے، ریلیاں، شاہراہوں کی بندش ومظاہرے ہوئے۔ کوئٹہ، گوادر، پسنی، پنجگور، حب، بیلہ، مستونگ سمیت دیگر شہروں میں احتجاج ہوا۔ مظاہرین وشرکاء اور قائدین مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، حافظ نورعلی، سعید بلوچ، مولوی نور محمد، مولانا عبدالمالک بلوچ، عبدالمجید بلوچ ودیگر نے گوادر میں دو ماہ سے جاری پرامن دھرنے والوں سے بامقصد مذاکرات کے بجائے پولیس گردی تشدد، گرفتاری ومقدمات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گوادر دھرنے والوں سے حکومت کے بااختیار ٹیم فوری بامقصد مذاکرات کرکے مطالبات تسلیم کرے، گرفتار رہنماؤں کو رہا مقدمات ختم کیے جائیں۔ اگر حکمرانوں، مقتدر قوتوں، بااختیار طبقات نے مطالبات تسلیم نہیں کیے، قائدین کو رہا اور مقدمات ختم نہ کیے تو ہم احتجاج کو وسعت دیکر پورے بلوچستان کو جام کر دیں گے۔ حق دوتحریک کے مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہی پرانے مطالبات ہیں جو حکومت نے تسلیم کیے لیکن عملدرآمد نہیں کر وارہے، حق دو تحریک ترقی، مذاکرات کیخلاف نہیں، مظلوم عوام کو حقوق، مچھیروں کو ٹرالر مافیا، چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل، بارڈر ٹریڈ میں بھتہ گیری، غنڈہ ٹیکس سے نجات دلائی جائے، لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ کوئٹہ میں جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا حافظ نورعلی کی قیادت میں ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں، جماعت اسلامی، جے آئی یوتھ، اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے شرکت کی۔ پریس کلب کے سامنے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ حافظ نورعلی، جنرل سیکرٹری پروفیسر سلطان محمد کاکڑ، عبدالمجید سربازی، سابق سینیٹر عبدالرحیم میر داد خیل، عبدالرحیم ناصر، عبدالرافع خلجی، حافظ محمد حنیف کاکڑ، مولانا عبدالحق، سید حیات اللہ آغا، عطاء اللہ مینگل، عبدالمنان ہاشمی، حاجی محمد اکرم خلجی، محمد صادق مینگل، محمد ہاشم کاکڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاٹھی، گولی کی سرکار و پولیس گردی نہیں چلے گی، ایک طرف مذاکرات کی باتیں اور دوسری طرف تشدد گرفتاری اور مقدمات حکومت و انتظامیہ کیا کررہی ہے، عوام ودھرنا مظاہرین کو دھوکہ نہ دیں۔ حکومت لاٹھی، تشدد، گرفتاری، مقدمات، پولیس گردی کے بجائے بااختیار ٹیم کے ذریعے دھرنا مظاہرین سے مذاکرات کریں۔ اگر حکمرانوں نے تشدد، پولیس گردی، مقدمات کے بجائے مذاکرات کا راستہ نہ اپنایا تو جماعت اسلامی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اورحق دو تحریک کیلئے صوبہ بھر میں تحریک چلائیگی اور پھر اس کو وسعت دیکر ملک بھر میں مظلوم عوام کو ملاکر حقوق کے حصول، ظلم وجبر کے خاتمے کیلئے عوام کو منظم کریں گی، حکومت، منتخب نمائندے، قومی جماعتیں، میڈیا غافل اور تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ سیندک، ریکوڈک، سی پیک سے بلوچستان کوثمرات کیوں نہیں دیے جارہے، سیکورٹی فورسز،منتخب نمائندے عوام کو سیکورٹی وترقی دینے کے بجائے بدعنوانی، بھتہ گیری میں ملوث ہیں، ان مظالم کی خلاف ہم ہر سطح پر جدوجہد کریں گے حقوق لینے اورجائز حقوق کے حصول کیلئے احتجاج کرنے والوں پر تشدد، گرفتاری ومقدمات کیخلاف ہماری جدوجہد جاری رہیگی۔


