لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی، معاشی اور کرنسی کی صورتحال بہتر ہونے پر مزید نرمی کی جائے گی،وزیر مملکت
اسلام آباد (انتخاب نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔سابقہ فاٹا کے صنعتی یونٹس کے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی/سیلز ٹیکس کے بقایا جات کو ختم کرنے کے معاملے پر تفصیلی غوروغوض کیا گیا، مالاکنڈ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کمیٹی سے درخواست کی کہ وہ وفاقی حکومت کو درج ذیل سفارشات پیش کرے جس میں کہاگیا ہے کہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ، 2005 میں ترمیم کا بل پیش کیا جائے جس میں سابق فاٹا اور پاٹا میں واقع اسٹیل اور کوکنگ آئل صنعتوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ فراہم کی جائے،ایف بی آر کو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی واپسی کی ہدایت دی جائے یا ٹیرف ایریاز میں سپلائی کے بدلے اس کی ایڈجسٹمنٹ کی ہدایت کی جائے۔سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے چھٹے شیڈول کے اندراج نمبر 152 میں ترمیم کرتے ہوئے گھی اور اسٹیل کی صنعتوں کو بجلی کے بلوں میں ٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔سابقہ فاٹا اور پاٹا کو ایف بی آر کی جانب سے ٹیکسز میں چھوٹ کو مزید پانچ سال کے لیے بڑھایا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے مناسب غور و خوض کے بعد مالاکنڈ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس چھوٹ کا مناسب جواز فراہم کرتے ہوئے اس معاملے پر حکومت سے مزید بات چیت کریں۔ایل سیز کی پابندی کے باعث "مووین پک ہوٹل، اسلام آباد” کے نام سے فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر میں تاخیر پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات نے کہا کہ حکومت کو زبردست معاشی دباؤ کی وجہ سے کچھ پابندیاں عائد کرنا پڑیں اور ملک کے بہترین مفاد میں غیر ضروری اور لگڑری اشیاء کی درآمد پر پابندی لگائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف عارضی پابندی ہے اور معاشی اور کرنسی کی صورتحال بہتر ہونے پر اس میں نرمی کی جائے گی۔ کمیٹی ارکان نے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ و محصولات کے حکام کو مشورہ دیا کہ وہ درآمدات کی مخصوص درخواستوں پر غور کریں اور اس سلسلے میں تاجروں کو درپیش مسائل کے خاتمے کے لیے کوشش کریں۔ اجلاس میں سینیٹرز، فاروق حامد نائیک، سعدیہ عباسی، انوار الحق کاکڑ، مشتاق احمد، وزیر برائے سیفران سینیٹر محمد طلحہ محمود، وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔


