رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ منفی رہنے کا خدشہ‘ پی ٹی آئی کا وائٹ پیپر
لاہور(این این آئی) پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کی معاشی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ منفی رہنے کا خدشہ ہے، صرف ٹیکسٹائل سیکٹر سے 15لاکھ افراد بے روزگار ہو گئے ہیں،ملک میں اس وقت ڈالر کے تین ریٹ چل رہے ہیں، حکومت کمرشل بینکوں سے قرض نہیں لے سکتی، بانڈز، سکوک فلوٹ نہیں کرسکتی،کریڈٹ ریٹنگ منفی ہے،آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ حکومت کا 6مہینوں کا خسارہ ہے ہدف سے دو گنا ہے،حکومت ایل سیز روک کر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ظاہر کر رہی ہے، ٹیکس کلیکشن میں بھی تقریباًساڑھے 9فیصد منفی گروتھ ہے،ڈیفالٹ کا خطرہ 5 فیصد سے 90 فیصد تک پہنچا۔وائٹ پیپر کے اجراء کے لئے 90شاہراہ قائد اعظم پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کے دو سیشز منعقد ہوئے۔ سیمینار میں شوکت ترین، اسد عمر،فواد چوہدری، حماد اظہر، مسرت جمشید چیمہ،جمشید اقبال چیمہ، ولید اقبال، حسان خاور، حسنین بہادر دریشک، فرخ حبیب، مزمل اسلم، ڈاکٹر سلمان شاہ اور ڈاکٹر زرقا سمیت دیگر نے شرکت کی۔سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے وائٹ پیپر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ ہمارے لئے 19.2 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چھوڑ کر گئی، 2018ء میں زر مبادلہ کے ذخائر 9.4ارب ڈالر تھے، روپے کو اپنی طرف سے مضبوط رکھنے کی کوشش کی گئی اس کو 23فیصد اوور ویلیو رکھا گیا۔ 2013ء میں بنگلہ دیش کی برآمدات 27ارب ڈالر تھیں۔2018ء میں ہماری برآمدات 24.8ارب ڈالر پر گئیں جبکہ اس وقت بنگلہ دیش کی برآمدات 37ارب ڈالر ہوچکی تھیں جو ہم سے 12ارب ڈالر زیادہ تھیں۔حکومت کی جانب سے روپے کے اوور ویلیو رکھنے کی وجہ سے قومی خزانے کو 33ارب ڈالر کا ٹیکہ لگ گیا۔انہوں نے کہاکہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور ڈیڈ کی صورت میں 32ارب ڈالر کا نسخہ ملا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے انہیں شرم آتی ہے، جب ہم سعودی عرب گئے تو اس وقت بھی عمران خان کو محمد بن سلمان سے ادھار پر تیل کی بات کرتے ہوئے شرم آرہی تھی کہ ہم پیسے مانگ رہے تھے لیکن ملک کی خاطر کوشش کی۔ہم ملائشیاء، ترکی، سعودی عرب متحدہ عرب امارات گئے لیکن ان ممالک سے ملنے والی امداد کافی نہیں تھی اور پاکستان کو آئی ایم ایف کا پروگرام لینا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف مغربی ممالک سے زیادہ جڑا ہوا ہے، جب ان سے سیاسی تعلقات اچھے ہوتے ہیں تو آسان پروگرام مل جاتا ہے، جب تعلقات اچھے نہیں ہوتے تو سخت پروگرام ملتا۔گزشتہ دور میں جب ہم دہشتگردی کی جنگ میں ان کے ساتھ تھے تو میں خود ساڑھے11ارب ڈالر کا آسان شرائط پر قرضہ لے چکا ہوں۔ لیکن اب جب ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم تمہاری جنگ نہیں لڑیں گے ہماری غیر جانبدار پالیسی ہو گی تو ڈسکاؤنٹ ریٹ 3.2بڑھا دیا، بجلی اور گیس کے بڑھا دئیے گئے، یہ کہا گیا کہ مالی خسارے کو 5.5پر نیچے لے کر آؤ،آمدن ایک سال میں 3.60سے 5.5ٹریلین کرو، یہ کبھی پاکستان میں ہوا ہے لیکن انہوں نے کہاکہ کرو، اس کی وجہ سے گروتھ نیچے آ گئی،مہنگائی ساڑھے دس فیصد پر چلی گئی اور سونے پر سہاگہ کہ کرونا وباء آ گئی۔ کورونا وباء کے دوران بھی ہم سرمایہ کاری کرتے رہے جس میں زراعت، تعمیراتی اورلوکل انڈسٹری شامل ہے۔ہم سرکلر ڈیٹ کو نیچے لے کر آئے۔ عمران خان کے آخری دو سالوں میں جی ڈی پی گروتھ پانچ سے چھ فیصد رہی، 32ارب ڈالر کی برآمدات کیں، ترسیلات زر 31ارب ڈالر تھیں جو یہ 19ارب ڈالر پر چھوڑ کر گئے تھے۔ٹیکس کلیکشن 3700ارب تھی جس میں ہم نے1500ارب کا اضافہ کیا، ہم 55لاکھ نئی نوکریاں لے کر آئے۔ سپر سائیکل آیا تو پیٹرولیم، خوردنی تیل، کوئلہ اور ویکسین کی درآمدات 3ارب ڈالر تھیں، اس سے پہلے سب کچھ کنٹرول میں تھا۔یہ دنیا کا سپر سائیکل تھا ہمیں پتہ تھا یہ واپس آئے گا ہم نے گروتھ کو نہیں روکنا اس سے نوکریاں ملنی ہے آمدنی بڑھتی ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف پروگرام معطل کر کے نہیں گئے، ہم نے دو یا تین فروری کو پیسے لئے، ہم نے دسمبر کے نمبرز پر پیسے لئے، مارچ میں مذاکرات چل رہے تھے۔ جب تک آپ ان کو اپنے نمبرز نہیں بتائیں گے وہ اس وقت تک آپ کو پیسے نہیں دیں گے، آئی ایم ایف سے بات چیت میں تعطل ہماری وجہ سے نہیں بلکہ ان کے وزیر خزانہ کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی وجہ سے رکے ہیں،آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ بجٹ بنا کر دو پھر پیسے دیں گے۔ آنے والے دنوں میں حکومت نے600ملین ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے اس سے ان کے زر مبادلہ کے ذخائر مزید نیچے ائیں گے،کمرشل بینک سے یہ پیسے نہیں لے سکتے۔،بانڈز، سکوک فلوٹ نہیں کر سکتے، ان کی کریڈٹ ریٹنگ کو منفی کر دیا گیا، ان کے وزیر خزانہ کہتے ہیں میں انہیں اپنی زبان میں سکھاؤں گا،کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز کسی کی زبان نہیں سمجھتیں وہ تجزیے پر ایسا کرتی ہیں،ڈالر کے مارکیت میں تین ریٹ ہے، ایکسچینج کمپنی اور حوالے کا ریٹ زیادہ ہے، انہوں نے صوبوں کے پیسے روک لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں جی ڈی پی کی مد میں قرضہ 64 فیصد تک بڑھے ملے۔ کرونا میں دیہاڑی دار مزدور کو بچانے کیلئے عمران خان نے مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ پی ٹی آئی دور میں گرتی معیشت کو سنبھالا گیا۔ پی ٹی آئی دور میں کورونا کے باوجود جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد تک پہنچی۔ پی ٹی آئی نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کو مسلسل کم کیا۔ زراعت کے شعبہ کی گروتھ 4.4 فیصد کی، پی ٹی آئی دور میں لارج سکیل مینو فیکچرنگ کی گروتھ 11 فیصد سے زائد رہی اور 32 ارب ڈالر کی ریکارڈ برآمدات ہوئیں۔ڈیفالٹ کا خطرہ 5 فیصد سے 90 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔اسد عمرنے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درست سیاسی فیصلے معیشت کی ترقی کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ سیاسی اور معاشی فیصلوں سے انسانوں کی زندگی جڑی ہوتی ہے۔ یہ سوچ کہ ٹیکنو کریٹ کی حکومت آئے گی جو سیاست نہیں معیشت دیکھیں گے، یہ ایک بیہودہ سوچ ہے۔ ٹیکنوکریٹ حکومت مسائل کا حل نہیں ہے۔ پاکستان جمہوریت کے تحت ووٹ کے ذریعے بنا اور اس کی ترقی بھی جمہوری عمل سے ہو سکتی ہے۔ بند کمروں میں بیک ڈور ڈیل کے تحت فیصلے کرنے کی بجائے عوام کو فیصلے کرنے دیں۔ سیاست میں تسلسل آئے گا تو معیشت بہتر ہوگی۔ رہنما تحریک انصاف جمشید اقبال چیمہ نے کہا کہ 2021 میں اشیا ء کی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان دنیا کا سب سے سستا ملک تھا۔ ہمارے دور میں ایک شخص کیاوسطاً72 ہزار روپے سالانہ خوراک پر خرچ ہوتے تھے آج ایک لاکھ سے زیادہ خرچہ ہوتا ہے۔ 45 فیصد ٹریکٹر کی فروخت کم ہوئی اور 41 فیصد یوریا کم استعمال ہوئی جس سے پیداوار کم ہو گئی۔ کاٹن 50فیصد، چاول کی پیداوار میں 40فیصد کمی ہوئی۔ زراعت سے 2 کروڑ 60 لاکھ خاندان وابستہ ہیں اور یہ 37 فیصد افراد کو ملازمت فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کی 70 فیصد انڈسٹری کیلئے خام مال رزاعت سے پیدا ہوتا ہے۔ 2008 میں 42 فیصد لوگ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے جو کم ہو کر 2018 میں 36 فیصد ہو گئے۔ تحریک انصاف کی وفاق میں حکومت سے پہلے ایک فرد روزآنہ 2400کیلریز استعمال کرتا تھا اور ہمارے دور میں ایک فرد روزانہ اوسطاً2735 کیلریز استعمال کرتا تھا۔ ہمارے دور میں دس فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ تحریک انصاف کے تین سالوں میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمت میں صرف تین فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 50 فیصد لوگ 5 ممالک میں رہتے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے پاکستان بھی ان 5 ممالک میں شامل تھا۔ کرونا کے بعد پاکستان ان 13 ممالک میں تھا جن کی گروتھ 12 فیصد سے زیادہ تھی۔ حماد اظہر نے کہا کہ 8 ماہ پہلے بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں پاکستان کی معیشت کی تعریف کی گئی۔ کسی رپورٹ میں اندیشہ بھی ظاہر نہیں کیا گیا کہ پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا سکتا ہے۔ جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد تھی۔ صنعتوں میں 10 فیصد ترقی ہو رہی تھی۔ امپورٹڈ حکومت کا پہلا بجٹ پاکستان کی معیشت اور آئی ایم ایف کے مطالبات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ ڈیفالٹ کا سوشہ امپورٹڈ حکومت نے خود چھوڑا جس میں ملک میں معاشی افراتفری پھیلی۔ آج ہر سیکٹر میں خام مال کی کمی ہے۔ ضروری خام مال، دوائیاں، صنعتوں کے سامان کی درآمد پر پاں ندی لگا دی گئی۔ انٹر بنک ڈالر ریٹ اسحاق ڈار کے کاغذ پر لکھا ہے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ بہت محنت سے ملکی معیشت تباہ کی گئی۔ پی ٹی آئی دور میں 16 روپے کا بجلی کا یونٹ تھا اور گردشی قرضہ 400 ارب سے کم ہوکر 90 ارب روپے پر آگیا تھا۔ مہنگے داموں پاور پلانٹ لگانے کی وجہ سے کپیسٹی پے منٹ1100 ارب تک پہنچ چکی ہیں۔ (ن) لیگ کے دورمیں بجلی کی پیداواری صلاحیت 40 ہزار میگا واٹ تھی اور ٹرانسمیشن صلاحیت 20 ہزار میگا واٹ کی تھی۔ تحریک انصاف نے بجلی کی ٹرانسمیشن صلاحیت 26 ہزار میگا واٹ تک بڑھائی۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ گزشتہ 50 سالوں میں سے 30 سال پی ڈی ایم جماعتوں نے حکومت کی۔ اس دور میں ملک کی اکانومی درآمدات پر کھڑی کی گئی۔ انرجی سیکٹر میں امپورٹڈ اندھن کو عوام برداشت نہیں کر سکتی۔ پاکستان کی معیشت کی ترقی میں پاور سیکٹر بڑی رکاوٹ ہے۔ ہر مہینے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ارب ڈالر کم ہو رہے ہیں۔ ہمارے ریزروز 5 مہینوں میں ختم ہو جائیں گے۔ کولیشن حکومت کی 13 جماعتیں درست فیصلے نہیں کر سکتیں۔ یہ کچھ کریں یا نہ کریں انہوں نے الیکشن میں ہارنا ہی ہے۔ جب تک آئی ایم ایف پروگرام بحال نہیں ہو گا معیشت بہتر نہیں ہو گی۔وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور جھگڑا نے کہا کہ 9 مہینوں میں پی ڈی ایم نے 232 ارب روپے ہمارے صوبے کے روکے۔ اس بجٹ کا زیادہ حصہ 9 مہینے پہلے آٹومیٹیکلی ہمیں مل رہا تھا۔ یہ حکومت این ایف سی ایواڈ کا حصہ بھی کسی صوبے کو مکمل نہیں دے رہی۔ بلوچستان نے بھی کہا کہ انکو بھی این ایف سی کا شیئر پورا نہیں مل رہا۔ پورے پاکستان میں وفاق کا صوبوں سے کنکشن ٹوٹا ہوا ہے۔ فاٹا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان صرف دس فیصد ڈویلپمنٹ بجٹ دیا گیا۔ وفاق نے صوبوں کو سیلاب زدگان کی بحالی کیلئے ایک روپیہ نہیں دیا۔ سیمینار سے نامور معاشی ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ ماہر معیشت علی خضر نے کہا کہ ہمارے پاس درامدات کیلئے پیسے نہیں۔ مارچ یا اپریل میں کھانے پینے کی اشیا اور انرجی کی شدید قلت ہو سکتی ہے۔ ہمارے پاس دو ہفتے سے زیادہ درآمد کیلئے زرمبادلہ نہیں ہے۔ جب صحیح سمت میں پاکستان کی اکانومی چلنے لگی تو عدم اعتماد کی تحریک وزیر اعظم کے خلاف پیش کر دی گئی۔ معیشت میں بہتری نئے الیکشن کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ماہر معیشت مزمل اسلم نے سیمینار سے خطاب میں کہا کہ معیشت کو آگے لے کر چلنا ہے تو اس میں عوام کی رائے ضروری ہے۔ امپورٹڈ حکومت پراپیگنڈا کا آج ہم نے جواب دیا۔ وائٹ پیپر بتا رہا ہے 75 سال کے بد ترین ریکارڈ امپورٹڈ حکومت نے توڑ دیئے۔


