بلوچستان بھر میں اشیا خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ، سستا سرکاری آٹا عوام کیلئے خواب بن گیا

کوئٹہ (انتخاب نیوز) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ شہری مہنگے داموں آٹے کے حصول اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے کی وجہ سے شدید مشکلات سے دو چار ہیں۔ کوئٹہ میں کھانے پینے کی چیزوں، سبزیوں اور آٹے کی قیمت میں روز بروز اضافے کے خلاف شہری سراپا احتجاج ہوچکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سرکاری نرخ پر سستے داموں آٹے کی فراہمی خواب بنکر رہ گئی ہے۔ اور یوٹیلٹی اسٹور پر بھی آٹا نا پید ہوچکا ہے۔ پرائیویٹ مارکیٹ میں آٹے کی قیمت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اسی طرح اندرون بلوچستان، خضدار، کوہلو اور دیگر علاقوں میں بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیاخوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے اشیاعوام کی دسترس سے باہرہو چکی ہے۔ اور عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔ 20 کلو آٹے کا تھیلہ 2800 روپے،گِھی 500 روپے کلو، سوختنی لکڑی فی من 1400 روپے، چینی 100روپے کلو، مرغی 640 روپے فی کلو، گوشت 1500 روپے کلو، روزمرہ کی چیزوں کی قیمتیں آسمان تک پہنچ چکی ہیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہیں مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کی چاندنی ہے ہر طرف من مانی قیمتوں پر عوام کو لوٹا جارہا ہے مزدور کی دیہاڑی صرف 700 روپے اب 700 میں مزدور اپنے گھر کا کفالت کیسے کرے گاضلعی انتظامیہ نوٹس لیکر عوام کو ان گرانفروشوں سے نجات دلانے میں کردار ادا کرے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کو چیک کریں اور سختی کیساتھ عملدرآمد کروائے کیونکہ غریب پس رہاہے بھوک سے افلاس سے مصنوعی مہنگائی سے عوام کو نجات دلائی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں