25 افغان شہریوں کے قتل کا اعتراف، برطانوی شہزادہ ہیری کیخلاف افغانستان میں احتجاج

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی شہزادی ہیری کی جانب سے اپنی یاداشتوں کی کتاب میں افغانستان میں تعیناتی کے دوران پچیس افغان شہریوں کو ہلاک کیے جانے کے اعترافی بیان پر افغان عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ افغانستان کے کئی شہروں میں شہزادہ ہیری کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند میں کئی مقامات پر بڑی تعداد میں مظاہرین اس وقت جمع ہوئے جب پرنس ہیری نے اپنی نئی یادداشتوں میں یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے افغانستان میں 25 افراد کو ہلاک کیا تھا جنہیں انہوں نے جنگجو بتایا تھا۔ اس وقت شہزادہ ہیری افغانستان میں برطانوی افواج کے ساتھ تھے۔ افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ایک مقامی یونیورسٹی کے طلبا اور عملے نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور برطانوی شہزادے کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے شہزادہ ہیری پر معصوم افغان شہریوں کے قتل عام کا الزام عاید کیا۔ مظاہرین میں سے ایک نے کہا کہ ہم ان کے (پرنس ہیری) کے رویے کی مذمت کرتے ہیں، جو انسانیت کے تمام اصولوں کیخلاف ہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹر اٹھار رکھے تھے جن پر سرخ رنگ میں x کا حرف تھا جس کے پیچھے ہیری کی تصویر دکھائی گئی تھی۔ اس علامتی نشان کا مطلب شہزادہ ہیری کا بائیکاٹ تھا۔ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سید احمد سید نے ہیری کی افغانستان میں برطانوی فوجی کارروائیوں میں ان کے کردار کی مذمت کی۔ سید نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ پرنس ہیری، ان کے دوستوں یا کسی اور کی طرف سے ہلمند یا افغانستان میں کہیں بھی مظالم ناقابل قبول اور ظالمانہ ہیں۔ یہ کارروائیاں تاریخ میں یاد رکھی جائیں گی۔نیٹو اور امریکی افواج نے اگست 2021 ء میں وہاں سے 20 سال کی جنگ کے بعد انخلا کیا اور مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کی لڑائی میں مدد کے لیے فضائی کارروائیاں چلا رہے ہیں۔ ان کے انخلا کے بعد نئی افغان حکومت نے تیزی سے اقتدار میں واپسی کا مرحلہ طے کرکے دنیا کو حیران کردیا تھا۔ اپنی یادداشت پر مشتمل کتاب اسپیئر میں ہیری کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2012-13 ء میں افغانستان میں ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کے شریک پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے دو درجن سے زائد جنگجوں کو ہلاک کیا تھا۔ شہزادے نے لکھا کہ اس نے اپنے عمل سے نہ تو اطمینان محسوس کیا اور نہ ہی شرمندگی۔ انہوں نے جنگ کی گرمی میں دشمن کے جنگجوں کو بساط سے ہٹائے جانے والے مہرے قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ برے لوگ اچھی چیزوں کو مارنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ شہزادی ہیری کے اس بیان پر افغان حکومت کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا اور ان کے بیان کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں