کراچی کو ”را“ کے تسلط سے اس لیے آزاد نہیں کرایا کہ آصف زرداری کا اس پر تسلط ہو، متحدہ قومی موومنٹ

کراچی (انتخاب نیوز) ایم کیو ایم تنظیم بحالی کمیٹی کے سربراہ فاروق ستار اور چیئرمین پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) مصطفی کمال ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد پہنچے جہاں عامر خان اور دیگر رہنماو¿ں نے ان کا استقبال کیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مشترکا کاوشیں رنگ لائی ہیں، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ قوم میں مایوسی پیدا کرنے والوں کو آج مایوسی ہو رہی ہے، پاکستان بنایا تھا، اب پاکستان بچائیں گے، ہم سب کو حالات کی سنگینی کا احساس ہے، جن کے اجداد نے پاکستان بنایا تھا انہی کی اولادوں پر ملک بچانے کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، مینڈیٹ تقسیم اور سازش کرنے والوں کو آج مایوسی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم کے کنوینر کا کہنا تھا کہ 15 جنوری کو الیکشن نہیں ہونے دیں گے، حلقہ بندیاں ٹھیک کرلیں، پھرکل ہی الیکشن کرالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2018ءکے الیکشن میں کراچی سے ایم کیو ایم کو ہرایا گیا، 2018ءمیں جو جیتے وہ حیران تھے، جنہوں نے جتوایا وہ پریشان ہوگئے، آر ٹی ایس بیٹھتا رہا تو پاکستان کی جمہوریت بھی بیٹھ جائےگی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہم آج ایک متحرک اور منظم ایم کیو ایم شروع کرنے جارہے ہیں، ایک ری برانڈڈ، ایک ریفارم ایم کیو ایم سامنے لا رہے ہیں، ایم کیو ایم کی تقسیم زہر قاتل تھی، ایم کیوایم کا ووٹ بینک تقسیم ہوا، سیٹیں چھین لی گئیں۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ لکیر 23 اگست کو کھینچی گئی، تو ہم پر 22 اگست کا مقدمہ اب تک کیوں چل رہا ہے؟ ہمیں جو فیصلہ کرنا تھا وہ فیصلہ ہم 23 اگست کو کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنیوا سے 10 ارب ڈالرز ملنے پر خوش ہورہے ہیں، کراچی کو موقع دیں، 10 ارب ڈالرز تنہا کراچی کما کر دے سکتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ شارع فیصل پر دھرنا دیدیں تو دیکھتے ہیں پھر 15 جنوری کا الیکشن کیسے ہوتا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی کو ایم کیو ایم پاکستان میں ضم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم خالد مقبول صدیقی بھائی کی رہنمائی میں کام کریں گے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آج تاریخی دن ہے، آج نہ سمجھ میں آنے والے فیصلے ہونے جا رہے ہیں، الطاف حسین سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں تھی، جو کچھ بٹتا تھا، سب کو ملتا تھا، روزانہ پاکستان کی ریاست اور پاکستان کی فوج کو گالی بکی جارہی تھی، آج مصطفیٰ کمال اور اس کے ساتھی ایک اور ہجرت کررہے ہیں، یہ ہجرت پی ایس پی سے ایم کیو ایم کی طرف ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم ذرا سا شریف کیا ہوئے، پورا شہر ہی بدمعاش ہوگیا، کراچی کو را کے تسلط سے اس لیے آزاد نہیں کرایا کہ آصف زرداری کا اس پر تسلط ہو۔ آصف زرداری کا ارادہ ہے کہ بلاول کو وزیراعظم پاکستان بنائیں، بلاول کو وزیراعظم بنانا ہے تو کراچی کو ساتھ لے کر چلنا پڑےگا، پاکستان چلانے والوں سے گزارش ہے کہ اب کراچی کے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کا وقت ہے، کراچی پاکستان کو پالتا ہے، آج بھی پاکستان کو چلا سکتا ہے، پال سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے کہتا ہوں، کراچی کے نوجوانوں کو ایک بار مکمل معافی دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں