تخریبی سیل بنانے کے الزام میں تیونس کی 9 خواتین کو 25 سال قید

تیونس (مانیٹرنگ ڈیسک) تیونس کی عدلیہ نے تخریب کار سیل بنانے اور اس وقت کے وزیر داخلہ ہادی مجدوب کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں 2016 ء سے اب تک 9 خواتین کو 25 سال تک قید کی سزا سنادی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق تیونس کے دارالحکومت کی کورٹ آف فرسٹ انسٹینس میں تخریب کاری کے مقدمات کی جانچ کرنے والی عدالت نے اس گروپ کی دو ارکان کو جن میں صرف خواتین شامل تھیں، تخریبی کارروائیوں کے ارتکاب کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی۔ سات دیگرملزمان کو تین سے 14 سال تک قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ ایک اور ملزمہ کیخلاف مقدمہ خارج کردیا گیا۔ 2016ء میں سوشل میڈیا پر اس وقت کے وزیر داخلہ ہادی مجدوب پر قاتلانہ حملے کے بارے میں خبر چلی جب وہ اپنے والدین سے ملنے جارہے تھے، تاہم اس وقت وزارت داخلہ نے اس کی تردید کی تھی۔ نجی ریڈیو نے کہا کہ سزا پانے والی خواتین میں وزیر کے والد کی پڑوسی بھی شامل ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ان کے خاندان کو اپنے دوروں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ مقامی میڈیا نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی کے رابطہ کرنے پر وزارت انصاف نے اس معاملے پر کوئی وضاحت نہیں کی۔ نیز تیونس کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کا کوئی سرکاری ترجمان سامنے نہیں آیا۔ اس نے مہینوں سے صحافیوں سے بات چیت نہیں کی ہے۔2011 ء کے انقلاب کے بعد جس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کا تختہ الٹ دیا، ملک میں شدت پسند گروہوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تخریبی حملوں میں درجنوں سیاح، سیکورٹی اور فوجی ہلاک ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں