ریٹائرڈ جنرل باجوہ ٹیکس ریکارڈ، گرفتار صحافی 2روزہ ریمانڈ پرایف آئی اے کے حوالے

اسلام آباد (انتخاب نیوز) سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہل خانہ کے ٹیکس ریکارڈ کے معاملے پر ایف آئی اے نے گرفتار صحافی شاہد اسلم کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج عمر شبیر کے سامنے پیش کیا۔سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شاہد اسلم کو گزشتہ روز گرفتار کیا، شاہد اسلم کو ایف بی آر سے انفارمیشن مل رہی تھی، احمد نورانی کو شاہد اسلم انفارمیشن دے رہے تھے۔پراسیکیوٹر نے کہاکہ شاہداسلم نے غیرملکی افرادکوانفارمیشن دی،ان کےخلاف ثبوت مل رہے ہیں جن سے معلوم ہو رہا ہے یہ انفارمیشن باہر دے رہے تھے۔پراسیکیوٹر نے شاہد اسلم سے مزید تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے۔شاہداسلم نے کہا کہ میں صحافی ہوں، میں ایف بی آر کافی عرصے سے کور کر رہا ہوں، اپنی پیشہ ورانہ ذمے داری جانتا ہوں، میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی ڈیٹا سابق چیف آف آرمی اسٹاف سے متعلق کسی کو نہیں دیا، انٹرنیشنل میڈیا کے لیے کام کیا، میں عزت دار انسان ہوں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ شاہد اسلم اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ کیوں نہیں دے رہے۔جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بطور صحافی انفارمیشن لینا غلط تو نہیں۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایف بی آر کی انفارمیشن لیک کرنے والے ملزمان نے شاہد اسلم کا بار بار نام لیا ہے۔شاہد اسلم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت تعین کرے شاہد اسلم کو گرفتار ٹھیک طریقہ کار سے کیا بھی گیایا نہیں، اگر ان کو غلط گرفتار کیا گیا تو یہ اغوا کیا گیا ہے۔ وکیلِ ملزم نے کہا کہ کیا کیس میں ملزمان کے بیان کو مصدقہ قرار دیا جا سکتا ہے؟ شاہد اسلم کو بیان پر گرفتار کرنا قطعا ٹھیک نہیں، گزشتہ 24گھنٹوں سے ایف آئی اے نے شاہد اسلم کو گرفتار کیا ہوا ہے۔ وکیلِ ملزم کی جانب سے شاہد اسلم کے خلاف کیس ڈسچارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں