لاپتہ بچیوں بارے رپورٹ جمع نہ کرانے پر سپریم کورٹ برہم، متعلقہ حکام ذاتی حیثیت میں طلب

اسلام آباد (انتخاب نیوز) سپریم کورٹ نے ڈاکٹر مہرین بلوچ کی دو بچیوں کی حوالگی سے متعلق کیس میں لاپتہ بچیوں کے بارے میں پیش رفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری سندھ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت پر طلب کرلیا۔ چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،سپریم کورٹ کا لاپتہ بچیوں کے بارے میں پیش رفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری سندھ کو آئیندہ سماعت پر ذاتی حیثیت پر طلب کرلیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ سے جواب مانگا تھا تاہم کوئی نہیں آیا،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے بچوں کو تلاش کرنے پر ریاست مکمل ناکام ہورہی ہے،اگر شہری لاپتہ ہونگے تو اس کا زمہ دار کون ہوگا، جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شہریوں کے لاپتہ ہونے پر کسی کو تو جوابدہ ہونا ہوگا، عدالت نے آئیندہ سماعت پر بچیوں کی بازیابی کی پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت ستائیس جنوری تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں