آٹے کی قیمت میں تحاشہ اضافے کے مد نظر روٹی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے، بلوچستان تندور یونین

کوئٹہ (انتخاب نیوز) آل بلوچستان تندور ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کوئٹہ کے صدر حاجی رضا محمد خان خلجی ، جنرل سیکرٹری حسن خان خلجی نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آٹے کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے 200 گرام وزن کی روٹی 30 روپے میں فروخت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں اپنے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں آٹے کا بحران کا ہے 100 کلو آٹے کی بوری میں 6000 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ گزشتہ 6 ماہ قبل انتظامیہ نے ہماری غیر موجودگی اور اعتماد میں لئے بغیر 100 کلو فائن آٹے کی بوری 9800 روپے میں فروخت ہورہی تھی اور تندور والوں کے لئے 300 گرام وزن کی روٹی کا نرخ نامہ جاری کیا گیا جس کی ہم نے مخالفت کی جو ہمیں قبول نہیں تھا اس کے باوجود 5500 رو پے گندم کی بوری میں اضافہ ہوا ہم نے انتظامیہ کو درخواست دی کہ با اختیار تجزیہ کمیٹی بناکر مناسب ریٹ دیا جائے لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی آج بھی گیس کے بحران کے باوجود ایل پی جی کے سلنڈر اضافی طور پر استعمال کرکے خرچہ برداشت کررہے ہیں اور سالانہ کروڑوں روپے ٹیکس بھی دے رہے ہیں آج لاہور میں 35 روپے کراچی اور پشاور میں 40 روپے روٹی کا ریٹ مقرر ہے لیکن ہمیں اسی وزن اور قیمت پر آٹے کی قیمت میں کئی گنا اضافے کے بعد بھی ریٹ پر فروخت کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے ہم نے گزشتہ روز جنرل باڈی کے اجلاس میں نئے ریٹ کے حصول کے لئے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن عوام کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے 200 گرام وزن کی روٹی 30 روپے میں فروخت کریں گے انتظامیہ اس کا نوٹیفکیشن جاری کریں اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو ہم اپنے قائدین کے ہمراہ گرفتاریاں دیں گے ہماری سیاسی جماعتوں، انجمن تاجران سے اپیل ہے کہ ہمارے ساتھ تعاون کریں تاکہ ہماری مشکلات کم ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں