افغانستان کیلئے بین الاقوامی امداد کو بند کرنے سے دنیا کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا، پاکستان

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے افغانستان میں سیاسی استحکام اور انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے لیے بین الاقوامی امداد کو افغان حکومت پر دباؤ بڑھانے سے منسلک کرنے کی پرانی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے برطانوی نشریاتی ادارے کوایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغان حکومت میں سیاسی استحکام اور انسانی حقوق کے حوالے سے بات چیت اور انہیں قائل کرنے کی ایک نئی حکمت عملی تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مشکلات سے دوچار افغان شہریوں لوگوں کے لیے عالمی حمایت کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ افغان حکومت پر دباو ڈالنے کے لیے بین الاقوامی امداد سے فائدہ اٹھانے کی جو حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، وہ کامیاب نہیں ہو سکی ہے لہذا ہمیں افغان عوام کے لیے بین الاقوامی حمایت جاری رکھنے کے لیے افغان حکومت سے رابطہ کرنے اور انہیں قائل کرنے کی نئی حکمت عملی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے بعض فیصلے بین الاقوامی برادری کے لیے ناقابل قبول ہیں، پاکستان نے پڑوسی ملک ہونے کی حیثیت سے افغانستان کے ساتھ رہنا ہے اور افغانستان میں جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کا اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔ پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ ہم افغان حکومت کے ساتھ روابط جاری نہ رکھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے، وہ ایک حقیقت ہیں، پورے ملک پر ان کا کنٹرول ہے اور اس لیے ہمیں ان سے رابطے میں رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کے لیے بین الاقوامی امداد یا انسانی امداد کو بند کردیا گیا تو ہمیں اس کے نتیجے میں قحط اور بھوک، پناہ گزینوں کا اخراج، بڑے عدم استحکام اور تخریب کاری میں اضافے کی صورت میں سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا لہٰذا ہمیں افغانستان میں اقتصادی بحالی کے لیے رابطے، انسانی امداد اور تعاون کو جاری رکھنا چاہیے کیونکہ یہی افغان عوام کے لیے غربت اور ان کو درپیش سنگین صورتحال سے نکلنے کا راستہ ہے کیونکہ افغان معیشت تباہ ہوچکی ہے جو 75 فیصد غیر ملکی امداد پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو بین الاقوامی امداد کی فراہمی جاری رکھنی چاہیے جو بنیادی طور پر ہمارا نقطہ نظر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں