این اے 265 پر سپریم کورٹ کا اسٹے برقرار ہے، دوبارہ الیکشن توہین عدالت تصور ہوگا، حاجی لشکری
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کے سیاسی رہنماءسینئر سیاستدان سابق سینیٹرنوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف الیکشن کمیشن پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے حلقہ این اے 265پر انتخابات کرانے سے قبل اس حلقے کے کیس کا فیصلہ کر کے پھر الیکشن کرایا جائے، اس طرح حکم امتناعی پر چلنے والے کیس کا فیصلہ نہ کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، اور منتخب ہونے والا شخص حکم امتناعی کے دوران قومی اسمبلی سے عدالت کے فیصلے کے بغیر استعفیٰ دیکر عدالت کی توہین کر رہا ہے، اس کا نوٹس لیا جائے ساڑھے چار سال تک بلوچستان کے اس حلقے کے عوام اور علاقے کی نمائندگی کو پارلیمنٹ میں آواز بننے سے روکا گیا ہے جو بلوچستان کے ساتھ ظلم و زیادتی کے مترادف ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا، اس موقع پر ظفر احمد ،میر وائس کاسی ،چوہدری رفعت علی، یاسر کاکا خیل ، ملک مصطفیٰ کاکڑ ،سرور رئیسانی ایڈووکیٹ، وڈیرہ اسلم لہڑی،عبدالصمد بنگلزئی سمیت حلقہ این اے 265سے تعلق رکھنے والے سیاسی عمائدین کارکن سمیت دیگر بھی موجود تھے، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی کچھ نشستوں کو خالی قرار دے کر ان پر ضمنی انتخابات کرانے کا اعلان کیاان حلقوں میں کوئٹہ کا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 265 بھی شامل ہے، 2018میں کرائے گئے انتخابات کو اپوزیشن جماعتوں نے جعلی قرار دیتے ہوئے حکومت کو سلیکٹڈ کا نام دیا کچھ لوگوں نے کہا کہ کٹھ پتلی حکومت ہے کچھ نے کہا یہ سلیکٹڈ حکومت ہے مگر اس تمام دورانیہ میں کسی نے سلیکٹر کا نام نہیں لیا جو سیاسی بدنیتی ہے ۔ میں اور میرے ساتھیوں نے کوئٹہ کے حلقہ این اے 265 پر الیکشن میں حصہ لیا اوردو دن کے بعد آنے والے نتائج سے میں نے اور میرے ساتھیوںسمیت ہمارے قانونی ماہرین نے اتفاق نہ کرتے ہوئے قانون کے مطابق الیکشن ٹربیونل میں درخواست دائر کرکے انصاف کے حصول کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا یا کیوں کہ جہاں جمہوری نظام ہوتا ہے وہاں لوگ عدالت کا دروازے کھٹکھٹا تے ہیں تاکہ انصاف حاصل کر سکیںہم نے بھی یہ دروازہ کھٹکھٹا یا قانون کے تحت انتخابی عذداری کا فیصلہ 120 دنوں میں ہونا چائیے ہماری لیگل ٹیم ریاض احمد ایڈووکیٹ ، سردار طاہر حیدری ودیگر بہت سارے سیاسی کارکنوں نے دن رات محنت کرکے الیکشن ٹربیونل میں اپنا کیس لڑا ،ہم نے کوشش کی کہ ہم ایک شفاف الیکشن کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور اپنی سیاسی آواز کو اپنے اس شہر جو بہت برے حالات سے گزررہا ہے اس شہر کا اور اپنے صوبے کے پسماندہ لوگوں کی پارلیمنٹ میں آواز بنیں اس لیے الیکشن ٹربیونل میں گئے اور درخواست دی کہ ووٹوں کی نادرا کے ذریعے تصدیق کرائی جائے اور نادرا کی ویری فکیشن میں یہ بات سامنے آئی کہ جتنے پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے ان کیساتھ دو اضافی بنائے جانے والے پولنگ اسٹیشنز میں بھی ووٹ کاسٹ کئے گئے تھے اس کا مطلب اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ شخص کیلئے اضافی دو پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے ان میں ڈھائی ہزار ووٹ ایسے تھے جن کو دوبارہ ری پول کیا گیا تھا یعنی طاقت ور حلقوں نے ووٹ ڈالنے والے لوگوں کے شناختی کارڈز پر اضافی ڈھائی ہزار ووٹ ڈالے تھے اور اس طاقت کا مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہونے پر 65 ہزار ووٹوں پرہاتھوں کے علاوہ پاﺅں کے بھی انگوٹھے لگائے گئے تاکہ انتخابی نتیجے کو پیچیدہ سے پیچیدہ بنایا جائے اور لوگ اس کو سمجھ نہ سکیں کیوں کہ ہم ایک سیاسی عمل کا حصہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس صوبے اور ملک کا بحران اس وقت حل ہوگا جب شفاف سیاسی عمل کے ذریعے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اس پر بات کریں گے بلوچستان ہائیکورٹ کے الیکشن ٹربیونل سے 2019 میں ہم یہ کیس جیتے اور ٹربیونل نے اس حلقہ میں دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ سنایا۔ انہوںنے کہاکہ میرے مخالف امیدوار کے وکیل کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ جواس وقت سینیٹر بھی ہیں وہ قاسم سوری کو بچانے کیلئے عدالت میں اپنے دلائل دیتے رہے اور جب فیصلہ ہمارے حق میں آیا تو قاسم سوری نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیصلے کیخلاف اپیل دائرکی جس میںمیں نے بذات خود عدالت عظمیٰ میں پیش ہوکر استدعا کی کہ میرے وکیل نہیں ہےں ہمیں وقت دیا جائے تاکہ ہم عدالت کے سامنے جواب دعوی داخل کریں تاہم عدالت عظمیٰ نے فورا ہمیں سنے بغیر حکم امتناعی(اسٹے) دیا اس اسٹے کو آج ساڑھے تین سال گزرگئے ہیں انہوںنے سپریم کورٹ میں مقدمہ نمبر C.A.1595/2019ابھی تک زیرالتواہے ۔ اور سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو غیر موثر قرار نہیں دیا گیا اس کے بغیر ہی اسٹے دیا اور اس اسٹے کو مختلف اوقات میں ہم نے کوشش کہ اس کو ختم کیا جائے کیوں کہ میرے حلقہ این اے 265 بلخصوص بلوچستان کی آواز کو پورے ایک نظام اور اسٹیبلشمنٹ نے دبایااور اسٹے کوآج تک برقرار رکھا گیا ، اسٹلشمنٹ کایہ رویہ میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ آئندہ پانچ چھ ماہ بعد شاید الیکشن ہوں انہیںاچانک خیال آیاکہ ضمنی انتخابات کرائے جائیں کیوں کہ قاسم سوری نے اس کیس میں اسٹے لیا تھا جو تاحال برقرار ہے اسٹے برقرار ہونے کے دوران اس نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیا اس کا مطلب ہے کہ وہ توہین عدالت کررہا ہے اور الیکشن کمیشن اسٹے برقرار رہنے کے بعدبھی اس حلقہ میںضمنی انتخابات کرانے کے اعلان پر وضاحت دے کہ جو کیس عدالت میںزیر سماعت اور حکم امتناعی پر ہو وہ کیسے الیکشن کراسکے گا کیا یہ توہین عدالت نہیں ہے یہاں توہین عدالت شریفوں کیلئے یا طاقت ور حلقوں کیلئے بھی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 جس کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے وہ کیسے اس حلقہ میں دوبارہ انتخابات کراسکتے ہیں وہ شخص جس نے استعفی دیا ہے وہ عدالت کے اسٹے کے باوجود استعفیٰ نہیں دے سکتا تھا ، اس حلقہ میں چیف الیکشن کمشنر انتخابات نہیں کراسکتے ہیں کیوں کہ یہ حلقہ اسٹے پر ہے اپنے مفادات میں ریاست اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والی آج کی حکومت نے الیکشن کا اعلان کیا، میں سمجھتا ہوں کہ اب تمام حلقوں خصوصا کوئٹہ کے حلقہ این اے 265 پر ریاست کسی ایک شخص کی لاٹری نکالنا چاہتی ہے عوام کے ووٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلہ کو پامال کرنے والے لاٹری نکال کر کسی کو لانا چاہتے ہیں تاکہ مصنوعی طریقے سے معاملات کو آگئے لے جایا جا سکے، چیف الیکشن کمشنراور سپریم کورٹ اس پر وضاحت کریں انہوںنے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ اگر اس حلقہ میں دیا گیا اسٹے برقرارہے تو ضمنی انتخابات کے شیڈول جاری ہونے کا نوٹس لیں اور چیف الیکشن کمشنر اور وہ شخص جس نے ٹربیونل کے فیصلہ پر اسٹے لیا تھا اور سپریم کورٹ سے پوچھے بغیر استعفی دیا اس کو طلب کریں وہ توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ تین ماہ کے انتخابات میری سمجھ سے بالاترہیں اور وہ الیکشن جس حلقہ پر سپریم کورٹ کا دیا گیا اسٹے تاحال برقرار ہو اور اسکا فیصلہ نہیں ہو سکا ہو، انہوںنے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کے حلقہ این اے 265 سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر التواکیس کو سماعت کیلئے مقرر کریں تاکہ ہمارے وکلاوہاںعدالت میں پیش ہو کر اپنے دلائل دیں اور پتہ چلے کہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں سے بلوچستان اور اس حلقہ کی آواز کو کیوں دبایا گیا ہے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ ہمارے مطالبہ پر غور کرکے بلوچستان ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواست کو سماعت کیلئے مقررکرکے اس پر فیصلہ دیگی۔ ایک سوال کے جوا ب میں انہوںنے کہاکہ الیکشن ٹربیونل نے اس حلقہ میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا اور دوبارہ وہ لوگ الیکشن لڑسکتے ہیں جنہوںنے 2018کے انتخابات میںاپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے ۔ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ اسٹے برقرار رہنے پر اس حلقہ میں دوبارہ انتخابات نہیں ہوسکتے اگر ہوں گے تو ساتھیوں سے مشاورت کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ جو پارلیمنٹ اسٹے پر چل رہاہو کیا وہ عوام کے مسائل حل کرسکتی ہے؟ اسی نظام نے آج پورے ملک کو بحران میں ڈالا ہے اور ملک کنگال ہونے کو جارہاہے ایسے میں یقینا مایوسی تو ہوگی۔ شاہد خاقان عباسی (ن) لیگ کے سینئر نائب صدر کے عہدے سے استعفی اور نئی سیاسی جماعت بنانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ شاہد خاقان عباسی اپنا جواب خود دیں گے مگر انہوں نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ وہ نئی پارٹی بنانے نہیں جارہے ، ہماری پارٹی بلوچستان اور اس کے مفا داورصوبے کے حقوق ہیںصوبے کے حقوق کا جو بھی دفاع کریگا ہم ان کیساتھ ہوں گے۔اور صوبے کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرینگے۔


