سی پیک کو متنازع بنایا گیا، پاکستان کی معیشت کو برآمدات کی بیٹری کے ذریعے چلانا ہوگا، احسن اقبال
لاہور (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ معیشت کا دھکا سٹارٹ آپریشن زیادہ دیر نہیں چل سکے گا، سی پیک کرکٹ نہیں فٹ بال کا کیچ ہے اگر فائدہ نہ اٹھایا تو تاریخ مرغا بناکر قیمت ادا کریں گے، معیشت کو برآمدات کی بیٹری کے ذریعے چلانا ہوگا، عمران خان اتنے عقلمند ہیں کہ اپنی دو حکومتوں کا خود ہی گلا گھونٹ دیا،سیاسی نالائقی کا نوبل ایوارڈ عمران خان کو ملنا چاہیے،عمران خان نے تخریب کاری کے خلاف استعداد بڑھانے کیلئے ملنے والے پیسے کو غیر ملکی دوروں اور عیاشی پر اڑایا، عمران نیازی لوگوں کو جواب دے جو پیسہ ملا یا س سے خیبر پختوانخواہ میں کتنا لگا، 2018 میں ہم نہ گندم، نہ کپاس اور نہ چینی درآمد کررہے تھے، 2022 میں ایک زرعی ملک عمران خان کی وجہ سے سب درآمد کررہا ہے،جب حکومت معیشت کی بگڑی صورتحال اور تخریب کاری کے خلاف اے پی سی بلا رہی ہے تو عمران خان قومی اتفاق رائے کو نقصان پہنچانے کی سازش میں مصروف عمل ہیں،جب تک دس سال تک پاکستان میں معاشی پالیسی کو نہیں چلایا جائے گا ملک ہچکولے ہی کھائے گا،سی پیک کو متنازعہ بناکر پاکستان کی ترقی روکی گئی،معیشت کے ڈھانچے میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ برآمدات کر سکے، اس کے پیچھے حکومت کھڑی ہوتو معیشت بہتر ہو سکتی ہے اور یہی واحد راستہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے لاہور سکول آف اکنامکس برکی کیمپس میں ” اکنامک راﺅنڈ ٹیبل کانفرنس “ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ احسن اقبال نے کہا کہ سابق حکومت میں توانائی کے منصوبے نہیں لگے بلکہ بڑی بڑی گاڑیاں اور تعمیرات کا سامان لایاگیا، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے سے معاشی مسائل بڑھ گئے، پانچ سالوں میں افراط زر بڑھی ہے ،وزارت خزانہ نے ہماری حکومت سے پہلے واضح اعلان کردیا کہ ترقیاتی بجٹ کوارٹر کی ریلیز ہی جاری نہیں کی گئی۔ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو ایٹمی دھماکوں میں پابندی کے باوجود منصوبوں کو پیسے دئیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو مصنوعی ترقی دینے کے عادی تھے،سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے مسائل رہے،دس سال تک سیاسی استحکام سے ہی ملکی ترقی ہو سکتی ہے، پاکستان میں سیاسی تبدیلی سے معاشی پالیسی پھل پھول نہیں سکی۔ انہوںنے کہا کہ ہر آنے والی حکومت پچھلے پانچ سالوں کی حکومت کو ناکام اس لئے کہتی ہے کیونکہ منصوبے پانچ سال میں مکمل نہیں ہوتے، 2007کے بعد توانائی کے مسائل شروع ہوئے،ہمیں حالت امن کا سی پیک کی شکل میں پلان ملا جس سے ہم اپنی صلاحیت کو بڑھا سکیں ،سی پیک سے دنیا مقناطیس کی طرح پاکستان میں کھینچی چلی آئی، چین کی سو کمپنیوں نے اسلام آباد میں دفتر کھول لئے تھے۔انہوںنے کہا کہ تھر کول ایران اور سعودی عرب سے تیل سے بڑاخزانہ ہے،تھرل کول سستا توانائی فراہم کررہا ہے،ہم نے ونڈ ،ہائیڈرل اور سولر سے بھی توانائی میں اضافہ کیا۔ انہوںنے کہا کہ آج ہماری معیشت کے ڈھانچے میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ برآمدات کر سکے۔ انہوںنے کہا کہ سیاسی تبدیلی ہر چیز کو تباہ کرتی ہے، پینسٹھ کی لڑائی لے کر معاشی کیچ ڈراپ کر دیا تھا، حکومتوں کے آنے جانے سے کوئی بھی معاشی پلاننگ نہیں چل سکتی ،-سی پیک کرکٹ نہیں فٹ بال کا کیچ ہے اگر فائدہ نہ اٹھایا تو تاریخ مرغا بناکر قیمت ادا کریں گے،سی پیک گیم چینجر ہے ،چینیوں نے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ،بد قسمتی سے سابق حکومت نے چین کو کٹہرے میں کھڑا کرکے کہاکہ منصوبوں میں کرپشن کی اور بے بنیاد الزامات لگائے،ایک شخص نے مجھ پر ملتان سکھر موٹروے میں 70 ارب روپے کرپشن کا الزام لگایا ۔ا نہوںنے کہاکہ گزشتہ چار سالوںمیں ایک ڈالر ملک میں نہیں آیا ساری کمپنیاں دفتر بند کرکے واپس چلی گئیں،مارکیٹ اگر آپ پر بھروسہ نہیں کرے گی تو معیشت اور کاروبار نہیں چل سکتا ،امریکہ سب سے بڑا مقروض ہے لیکن ڈالر پر دنیا کا بھروسہ ہے،گزشتہ چار سالوںمیںپاکستان پر دنیا کا بھروسہ ختم ہوگیا،پاکستان کی دھکا سٹارٹ معیشت کو انجن کی بیٹری تبدیل کرکے لگانا ہوگی، درآمدات بڑھتی ہیں تو ایمرجنسی بریک لگانی پڑتی ہے،دھکا سٹارٹ اب زیادہ دیر نہیں چلے گی سپورٹ کی بیٹری معیشت میں لگانا ہوگی، بر آمد کنندگان کے پیچھے حکومت کھڑی ہوتو معیشت بہتر ہو سکتی ہے، 500ڈالر کا کوئی کاروباری شخص موجود نہیں اور پاکستان دنیا کی کسی مارکیٹ میں لیڈر نہیں ،انڈسٹری اس لئے نہیں بڑھی کیونکہ ہر پانچ سال بعد پالیسی تبدیل کر دیتے ہیں، پاکستان کی ساری دولت رئیل اسٹیٹ اور پلاٹوں میں دفن ہے۔ا نہوںنے کہا کہ سسٹم میں خرابیوں کو ٹھیک کرنا ہوگا جس کےلئے ہم آہنگی پیدا کرنا ہوگی، ویژن 2025 میں تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کیا لیکن حکومت تبدیلی سے اسے باہر پھینک دیا گیا۔جب اڈیالہ جیل میں تھا سوچا پالیسی نہیں چلتی حل کیا ہے ذہن میں ایک حل ہے ریفارم ایجنڈا پرائیویٹ سیکٹر کو ٹرانسفر کر دی جائے ،جو حکومت آئےگی وہ مضبوط لابی سے مجبور کرسکیں گے پالیسی کو چلنے دیں، چیمپئن آف ریفارم میں پرائیویٹ سیکٹر اوور سیز پاکستانیوں کو شامل کیاہے ،خزانہ میں پیسے نہیں ،پبلک سیکٹر کے سوا سات سو ارب روپے کے پروگرام کے خاتمے کا خطرہ ہو تو مسائل ہوجائیں گے، آج ڈویلپمنٹ فنڈ سے خزانہ چلا رہے ہیں ۔ٹیکس ریونیو میں تیزی سے اضافہ نہیں ہوا مزید ٹیکس لگاکر معیشت کا گلا گھونٹ دیاجاتاہے، ہمیں ضرورت ہے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کےلئے ٹیکس چوری اور لیکج کو ختم کیاجائے بجائے ٹیکس دینے والوں کو مزید تنگ کریں ۔


