کوئٹہ پرائس کنٹرول کمیٹی منافع خور مافیا کو تحفظ دے رہی ہے، سرکاری نرخنامے نافذ کیے جائیں، کنزیومر سوسائٹی
کوئٹہ (آن لائن) پامیر کنزیومر سوسائٹی کے چیف کوآرڈینٹر اور ضلعی پراہس کنٹرول کمیٹی کے ممبر نذر بڑیچ نے کوئٹہ میں دودھ کی قیمت میں پریشر ڈالنے اور مافیا کے زریعے بلیک میلنگ کی سخت مذمت کرتے ہوئے انھیں سابقہ مارکیٹ مافیا اور انتظامیہ کی ملی بھگت قرار دیا گیا ہے انھوں نے کہا کہ پرائس کنٹرول کمیٹی جو برائے نام اور صارفین کو جھوٹی تسلی دینے اور ان پر سرکاری مہنگائی مسلط کرنے کی حد تک کام کرتی اور مارکیٹ مافیا کو تحفظ دے رہی ہے کیونکہ کسی بھی سرکاری نرخنامہ کو سرکار خود لاگو نہیں کرسکتی، دودھ کی سرکاری نرخنامہ کمیٹی کے منظوری کے بغیر 135 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہیں لیکن بازار میں 180 روپے فروخت ہورہی ہیں، مٹن 11 سو روپے لیکن بازار میں 15 اور 16 سو اور بیف850 روپے فی کلو سرعام فروخت ہورہی ہیں، روٹی تین سو گرام تیس روپے مقرر ہے لیکن تندور ایسوسی ایشن نے 150گرام روٹی کی قیمت تیس روپے میں فروخت ہورہی ہیں جبکہ اصل میں 100 گرام کی روٹی ہوتی ہیں پھر انتظامیہ کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ اب ایک بار پھر دودھ 200 روپے کا شوشا چھوڑ کر 200 روپے میں فی لیٹر فروخت شروع ہوجائے گی انتظامیہ کا اخباری بیان آکر خاموش ہوجائے گے لیکن اس مرتبہ پامیر کنزیومر سوسائٹی ضلعی انتظامیہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دے گی اور صارفین کو مارکیٹ مافیا کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ دودھ، گوشت، روٹی بیکری آئٹم اور دیگر اشیا خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے فعال اور قانونی کاروائی کریںبصورت دیگر صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔


