براڈ شیٹ سے معاہدہ، پاکستان کو ہرجانہ کے 29 ملین ڈالر کی ادائیگی کا دعویٰ مسترد
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک ) اثاثہ جات ریکورکرنے والی برطانوی فرم براڈ شیٹ کو پاکستان سے بطور ہرجانہ ملنے والے 29 ملین ڈالر پر ہیج فنڈکا دعویٰ مسترد کردیا گیا۔برطانوی نیم خود مختار ریاست آئل آف مین کی عدالت نے براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے موسوی کے حق میں فیصلہ سنادیا۔ہیج فنڈ نے پاکستان کی طرف سے ملنے والی 29 ملین پاو¿نڈ کی تمام رقم کو حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، یہ رقم یو کے ہائی کورٹ کے حکم پر پاکستان نے براڈ شیٹ کو ادا کی تھی، رقم کی عدم ادائیگی پر عدالت نے پاکستان کے اثاثے ضبط کرنےکا حکم دیا تھا۔ہیج فنڈ نے براڈ شیٹ کو 6 ملین ڈالرکیس لڑنے کےلئے فراہم کیے تھے، آئل آف مین کی عدالت نے اس کیس کا فیصلہ ہونے تک براڈ شیٹ کے لیکوڈیٹرز کو رقم کی تقسیم سے روک دیا تھا۔اس حوالے سے کاوے موسوی نے کہا کہ معاملہ زیر سماعت ہونے کے سبب کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا، اس معاملے پر برطانیہ اورامریکا فارن کرپٹ پریکٹس اور برائبری ایکٹ کے تحت تحقیقات کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان نے نواز شریف خاندان اور دیگر سیاست دانوں کے مبینہ خفیہ اثاثوں کا پتہ لگانے کےلئے براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں، پاکستان کی طرف سے براڈ شیٹ سے معاہدہ توڑے جانے کے سبب اب تک 65 ملین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔


