عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا، گوادر والے علیحدگی پسند ہیں نہ ملک توڑنے والے، سراج الحق

گوادر (بیورو رپورٹ) حکومت گوادر والوں کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کرے۔ گوادر کی ترقی کے لئے ضروری ہے گوادر والے خوشحال ہوں۔ تشدد اور گرفتاریوں سے عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ گوادر والے نہ علیحدگی پسند ہیں اور نہ ملک توڑنے والے یہ اپنا آئینی حق چاہتے ہیں۔ حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ گوادر والوں کو سنا جائے اور ان کو دوبارہ دھرنا دینے پر مجبور مت کیا جائے۔ جماعت اسلامی اور ملک کی تئیس کروڑ عوام گوادر والوں کے پشت پر کھڑے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے یہاں گوادر میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہاکہ گوادر اس پورے ریجن کا اہم شہر بن گیا ہے ملک کے معیشت کے روشن مستقبل کا سو فیصد انحصار گوادر سے جوڈا جارہا ہے گوادر بین الاقوامی توجہ کا مرکز اور محور بھی بن گیا ہے لیکن اتنی اہمیت کے باوجود گوادر کے لوگ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں یہاں کے لوگوں نے جو جدوجہد شروع کی وہ کسی فائیو اسٹار لائف کے حصول کے لئے نہیں ہے ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کو بے شک روزگار نہ دو مگر جو روزگار ہے اس سے محروم نہ کیا جائے، پانی دو، انہیں اپنے گھر اور شہر میں بے عزت مت کریں بلکہ عزت نفس کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے، گلی کوچوں، اسکول، کالج، مدرسوں اور مساجد کے سامنے جو ناکے قائم کئے گئے ہیں ان کو ختم کیا جائے اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کئے جائیں، سمندر جس سے وہ آباو اجداد کے زمانے سے روزگار کرتے چلے آرہے ہیں غیر قانونی ٹرالنگ سے ان کا روزگار ختم کیا جارہا ہے اس سے تحفظ فراہم کیا جائے اور جب سے پاکستان بنا ہے بارڈر ٹریڈ جاری ہے اس کو بند نہیں کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی جائز مطالبات ہیں جو پاکستان کے آرٹیکل 38 کے عین مطابق ہیں پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ لوگوں کو روزگار فراہم کرنا، امن دینا، سیکورٹی فراہم کرنا اور تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن آئین پر عمل کرنے کی بجائے حکومت یہاں کے لوگوں کو بے روزگار کررہی ہے، پانی، روزگار اور تعلیم کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے ان سمیت بے شمار محرومیوں کی وجہ سے حق دوتحریک نے جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک پاکستان مخالف نہیں یہ امن چاہتے ہیں۔ 2021 میں یہاں پر دھرنا ہوا تھا جس میں، میں خود بھی شرکت کے لئے گوادر آیا تھا اور دھرنے کے بعد حکومت نے مذاکرات کئے اور تحریری معاہدہ بھی کیا جسے ہم نے سراہا لیکن پھر عرصہ گزرگاہ وقتی طورپر تسلی کے کچھ اقدامات اٹھائے گئے لیکن غیر قانونی ٹرالرنگ میں پھر شدت آگئی ہے، لوگوں کے لئے روزگار کے دروازے بند کئے گئے ہیں، بارڈر ٹریڈ پر پابندی لگائی گئی، رشوت کا بازار گرم ہوا، لوگوں پر سختیاں شروع کی گئیں اور لوگوں نے مجبور ہوکر پھر سے مولانا ھدایت الرحمن کی قیادت میں دھرنا دیا اور یہ دھرنا دوماہ تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کو یہ چاہیئے تھا کہ وہ یہاں آکر لوگوں کو سنتے اور ان کے ساتھ ہمددری کا اظہار کرتے اور لوگوں کے زخموں پر مرہم پٹی کرتے لیکن حکومت نے تکبر کا راستہ اختیار کیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ کچھ غلام لوگ ہیں اور وہ اپنی آزادی کے لئے کوشاں ہیں حالانکہ یہ لوگ اس دھرتی کے اصل مالک، وارث اور آقا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ نے حق دوتحریک کی قیادت سے گوادر میں گفتگو کے بعد جب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کی تو ان کے لہجہ سے یہی لگ رہا تھا کہ حکومت نے گوادر میں ذاتی ملازموں کو بغاوت کرنے کی پاداش میں ان کو دوبارہ ڈنڈے کے زور پر اپنا غلام بنایا ہے جو بڑی حماقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے جائز مطالبات سننے کی بجائے پولیس نے ان پر بدترین تشدد کی، چھاپے مارکر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا اور پہلی مرتبہ ہمارے عزت مآب ماو¿ں اور بیٹیوں پر تشدد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ چوری چکاری روکے لیکن چھاپوں کے دوران گھروں سے ضرورت کی چیزیں اور طلائی زیورات چراکر لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک عدالت نے حق دوتحریک کے 900 لوگوں کی ضمانتیں دے رکھی ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اندھا دھند تشدد کے علاوہ اندھا دھند مقدمات بھی قائم کئے گئے جتنا ظلم اور جبر کرسکتے تھے حکومت نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گوادر میں گوادر والوں سے اظہار یکجہتی کرنے آئے ہیں، ہم یہاں بزرگوں سے ملے، نومنتخب کونسلروں اور اپنے ماو¿ں اور بیٹیوں سے ملاقات کی ہر ایک نے حکومت کے ظلم اور جبر کے خلاف ایک زبردست بیانیا دیا ہے۔ یہ لوگ پاکستان کے دشمن نہیں اور نہ ہی پاکستان کو دولخت کرنا چاہتے ہیں یہ کوئی علیحدگی کی تحریک نہیں یہ زندگی چاہتے ہیں۔ عزت، امن، روزگار اور پاکستان کے شہریوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو حقوق اسلام آباد، لاہور، پشاور اور کوئٹہ والوں کو دیئے گئے ہیں یہاں کے لوگ یہی حقوق چاہتے ہیں۔ لیکن افسوس چہرے بدل گئے ہیں لیکن ظلم اور جبر کا نظام نہیں بدلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے پی ٹی آئی کی حکومت ظلم کررہی تھی اب پی ڈی ایم کی حکومت ہے لیکن پی ڈی ایم بھی ان کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے عوام کے ساتھ حکومت کے تحریری معاہدہ پر عمل درآمد اور بعد میں حق دوتحریک کے رہنماو¿ں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں یہاں کے لوگ اکیلے اور لاوارث نہیں جماعت اسلامی سمیت تئیس کروڑ پاکستانی عوام ان کے ساتھ ہیں یہاں کے لوگ اسلام آباد میں بھی آسکتے ہیں اور ہم لوگ لیکر یہاں بھی آسکتے ہیں۔ میں تئیس کروڑ پاکستانی عوام کی طرف سے گوادر کے عوام کو یہ پیغام پہنچانے آیا ہوں کہ آپ لوگ لاوارث نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر گوادر حساس ہے تو حکمرانوں کو گوادر والوں کو سنا پڑے گا حکومت کو متنبہ کرتے ہیں اور موقع بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنے تحریری معاہدے سے روگردانی نہ کرے کہ کہیں لوگ دوبارہ دھرنا دینے پر مجبور نہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے اہم ترین اداروں سمیت سنیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران سے اپیل کرتے ہیں کہ گوادر کے لوگوں کو سنا جائے، حکمران کو سمندر چاہیئے یا یہاں کہ مٹی کیونکہ جنگل، صحرا اور پہاڑوں کا نام لوگ نہیں ہے۔ گوادر کے لوگ مظلوم ہیں ان کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کئے جائیں۔ اگر پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں تو پاکستان کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ گوادر ترقی کرے اور گوادر کی ترقی کے لئے یہاں کے لوگوں کا خوشحال ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا ھدایت الرحمن کو رہا کیا جائے، حق دو تحریک کے رہنماو¿ں اور کارکنوں پر قائم تمام جھوٹے مقدمات ختم کئے جائیں، چھاپوں کے دوران گھروں سے غائب سامان واپس کئے جائیں اور حکومت یہاں کے غیرت مند اور بہادر قوم سے معافی مانگے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی، حق دوتحریک کے حمایت یافتہ میونسپل کمیٹی گوادر کے نومنتخب چیئرمین شریف میانداد، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر عبدالمجید، جنرل سیکریٹری مولانا لیاقت بلوچ، سابقہ صوبائی نگران وزیر میر نوید کلمتی بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں