سرکاری پشت پناہی میں عبدالرحمن کھیتران جیسے لوگ بلوچوں کا قتل کررہے ہیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی

اسلام آباد (انتخاب نیوز) کوئٹہ سے بلوچ خاتون ماحل کی اغوا نما گرفتاری، جھوٹی ایف آئی آر، آئے روز بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں اور بارکھان واقعے کےخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی اسلام آباد کی طرف سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈیرہ غازی خان میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے سانحہ بارکھان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بلوچستان میں آئے دن عام عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے، کبھی کسی شخص کو کیمپ بلاکر ٹارچر کرکے قتل کر دیا جاتا ہے یا برسوں زندان میں رکھ کر اذیتوں سے گزارا جاتا ہے تو دوسری جانب سرکار کے پالے ہوئے نام نہاد سردار جنہیں اسلحہ و بارود اور لوکل ملیشیابناکر ریاست کام لیتی ہے جنہیں محض کچھ مفادات کیلئے ریاست ہر طرح کے جرائم و مظالم کرنے کی مکمل طور پر چھوٹ دیتی ہے۔ یہ نام نہاد سردار کسی بلوچ کے چنے ہوئے سردار نہیں ہیں بلکہ ریاست کے پیدا کردہ سردار ہیں۔ بلوچستان کے ہر کونے میں ریاست نے اپنی پشت پناہی میں ایسے سانپ پال رکھے ہوئے ہیں جو بلوچ عوام کو روز ڈستے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ گراناز بی بی اور ان کے بیٹوں کا قاتل جتنا عبدالرحمن کھیتران ہے اتنا ہی ریاست ہے، جنہوں نے اپنی پشت پناہی میں بلوچستان کے ہر علاقے میں ڈیتھ اسکواڈ اور لوکل ملیشیا بنا رکھی ہیں۔ مختلف علاقوں میں ان لوکل ملیشیا کی شکل مختلف نوعیت کی ہیں جبکہ اکثر و بیشتر ڈیتھ اسکواڈز اور لوکل ملیشیا کے سربراہوں کو جنہیں کہیں سردار تو کہیں میر و ٹکری کے نام سے جانا جاتا ہے سب کو ریاست نے بلوچستان کے پارلیمنٹ اور پولیٹکل پارٹیوں کی شکل میں متحرک کیا ہوا ہے۔ خضدار اور جھالاوان ریجن میں سب سے بڑے ڈیتھ اسکواڈ کا سربراہ بھی کسی نام نہاد سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے جبکہ کیچ سمیت، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، بارکھان، خضدار، لسبیلہ سمیت تمام علاقوں میں ریاست نے اپنے اپنے سردار بنائے ہوئے ہیں جنہیں ہر طرح کے مظالم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ ماحل بلوچ کے واقعے کو دبانے کیلئے گراناز اور ان کے بیٹوں کو قتل کیا گیا ہے تاکہ اس مسئلے سے توجہ ہٹائی جاسکے مگر ہمیں اس بات کا پوری طرح علم ہے کہ آج بلوچستان کے کونے کونے میں جو بھی ظلم ہورہا ہے جو بھی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اس میں ریاستی پالیسیاں شامل ہیں اور انہی کے کہنے پر یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ آج سے 13 سال پہلے ایک ڈکٹیٹر مشرف نے کہا تھا کہ بلوچستان میں 3 سرداروں کے علاوہ سب فوج کے ساتھ ہیں جو یہ واضح کرتا ہے کہ یہ سردار ریاست کے اپنے پالے ہوئے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ قوم پر ہونے والے ظلم کیخلاف بلوچ عوام کو سیاسی مزاحمت اور جدوجہد کی دعوت دیتی ہے، خاموشی کی صورت میں یہ ظلم کبھی ختم نہیں ہوگا اور ریاست جو خود اس ظلم میں شامل ہے ہمیں کبھی بھی انصاف نہیں دے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں